ملتان (کرائم سیل رپورٹ)اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ملتان کو موصول ہونے والی ایک تفصیلی چار صفحات پر مشتمل درخواست کے بعد محکمہ زراعت ملتان کے بعض افسران و اہلکاروں کے خلاف اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، رشوت طلبی، سرکاری تحویل میں موجود کھاد کی بڑے پیمانے پر گمشدگی اور ریکارڈ میں مبینہ رد و بدل کے الزامات پر انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔درخواست گزار، نجی زرعی کمپنی پانڈا اے جی (PANDA AG) کے سٹور انچارج سید مسیب حسین شاہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے باعث راستے بند ہونے پر کمپنی نے سلفیٹ آف پوٹاش (SOP) کھاد کے 1002 بیگز جن کی مجموعی مالیت 75 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے ۔حامد پور کنورہ انڈسٹریل ایریا ملتان کے ایک نجی گودام میں عارضی طور پر محفوظ کئے تھے۔درخواست کے مطابق 20 ستمبر 2025 کو محکمہ زراعت کے متعلقہ ایگریکلچر آفیسر، اسسٹنٹ فیلڈ آفیسر اور دیگر اہلکاروں نے کسی پیشگی نوٹس، عدالتی حکم یا مقامی گواہوں کی موجودگی کے بغیر گودام کے تالے توڑ کر کارروائی کی۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ اس کارروائی کے بعد کمپنی کے سی ای او سے معاملہ’’نمٹانے‘‘کے لیے 50 لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا گیا۔مزید الزام عائد کیا گیا کہ رشوت دینے سے انکار پر افسران نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گودام کو سیل کر دیا اور تھانہ مظفرآباد میں درج ایف آئی آر میں کھاد کے بیگز کی اصل تعداد 1002 کے بجائے 500 ظاہر کی گئی تاکہ باقی سٹاک کو مبینہ طور پر خردبرد کیا جا سکے۔درخواست میں ایک اور سنگین انکشاف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 25 ستمبر 2025 کی رات اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر اللہ رکھا اور دیگر اہلکاروں نے مبینہ ملی بھگت سے سرکاری سیل توڑ کر گودام سے 463 بیگز غیر قانونی طور پر نکال لیے۔ درخواست گزار کے مطابق اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج، موقع کے گواہان اور دیگر شواہد بھی موجود ہیں۔ وقوعہ کی اطلاع دینے کے لیے 15 پر پولیس کو کال کی گئی تاہم الزام ہے کہ اہلکار موقع سے فرار ہو گئے۔معاملے کی سنگینی اس وقت مزید واضح ہوئی جب 14 اکتوبر 2025 کو اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان کے حکم پر گودام کو ڈی سیل (De-Seal) کیا گیا۔ گنتی کے دوران وہاں صرف 39 بیگز موجود پائے گئےجبکہ سرکاری ریکارڈ اور ایف آئی آر میں 500 بیگز ظاہر کیے گئے تھے۔درخواست گزار کے مطابق یہ واضح تضاد سرکاری تحویل میں موجود کروڑوں روپے مالیت کے سٹاک کی مبینہ گمشدگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو دی گئی درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری سیل کی پامالی، چوری، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری میں ملوث افسران کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائےجبکہ تاجر برادری کو مبینہ طور پر جاری بھتہ کلچرسے تحفظ فراہم کیا جائے۔ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن حکام نے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد ابتدائی انکوائری کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے اور متعلقہ ریکارڈ، شواہد اور بیانات اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب محکمہ زراعت کے متعلقہ افسر سے قبل ازیں موقف لیا گیا تھا کہ کارروائی کے روز سیمپلز کیوں نہیں لیے گئے جس پر انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس وقت کیمیکلز پر لیبلز موجود نہیں تھے، اس لیے سیمپلنگ ممکن نہ ہو سکی جبکہ بعد ازاں لیبلز لگنے پر سیمپلز لیے گئے۔ تاہم اینٹی کرپشن انکوائری کے آغاز کے بعد مؤقف کے لیے دوبارہ رابطہ کیا گیا تو متعلقہ افسر نے نہ تو فون کال وصول کی اور نہ ہی واٹس ایپ میسیج کا جواب دیا۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تھانہ مظفرآباد میں اس معاملہ بارے درج مقدمات کی بروقت مستعدی سے تفتیش کی جاتی تو اینٹی کرپشن انکوائری کی نوبت شاید نہ آتی۔ عوامی اور تجارتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس پی انویسٹیگیشن ملتان ان مقدمات کی خود نگرانی کریں تاکہ اصل حقائق منظرِ عام پر آ سکیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔







