ڈیرہ غازی خان (کرائم سیل) ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں محکمہ خوراک کی 32کروڑ روپے مالیت کی 2100 میٹرک ٹن سرکاری گندم غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری سطح پر ایک ڈویژن میں سرکاری گندم کی اتنی بڑی ڈکیتی صرف تین سنٹر ز شادن لُنڈ، شاہ صدر دین اور پی آر سی ڈیرہ غازی خان میں ہوئی ہے۔ ان تینوں سنٹر ز کے انچارج اور ریکارڈ لاپتہ ہیں، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر ڈیرہ غازی خان کے دفتر سے میمو نمبر ڈی ایف سی ـ ڈی جی کے ـ 2026 اور خاص سات مارچ 2026 کو جاری کیا گیا جس میں اس بڑے پیمانے کی خورد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سرکاری دستاویز کے مطابق ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں محکمہ خوراک کے تین مراکز ڈیرہ غازی خان شہر، شاہ صدر الدین اور شادن لُنڈ کے فوڈ سنٹرز میں مجموعی طور پر 32 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی سرکاری گندم کی مبینہ خوردبرد سامنے آئی ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب محکمے میں بدعنوانی کی شکایات عام ہیں،لیکن ماضی کی طرح اس بار بھی محکمانہ ملی بھگت سے کیس دبائے جا رہا ہےروزنامہ قوم ملتان کو موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر آفس کی جانب سے خط نمبر DFC-DGK-2026/710 کے تحت ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ ڈی جی خان ریجن کو تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی ہےجس میں تینوں مراکز پر گندم کے ذخائر میں بے ضابطگیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
1۔پی آر سی ڈی جی خان (انچارج: مسٹر بنیامین): یہاں 346.330 میٹرک ٹن گندم کی کمی پائی گئی جس کی مالیت 5 کروڑ 24 لاکھ 11 ہزار 410 روپے بنتی ہے۔
2۔گندم خریداری مرکز شاہ صدر الدین (انچارج: ثاقب علی اور غلام مرتضیٰ):اس مرکز میں سب سے زیادہ 880.700 میٹرک ٹن گندم کی کمی رپورٹ ہوئی جس سے قومی خزانے کو 13 کروڑ 62 لاکھ 22 ہزار 34 روپے کا نقصان پہنچا۔
3۔گندم خریداری مرکز شادن لُنڈ (انچارج: غلام مرتضیٰ): اس مرکز پر 852.801 میٹرک ٹن گندم کی کمی پائی گئی جس کی مالیت 13 کروڑ 19 لاکھ 6 ہزار 764 روپے بنتی ہے۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر آفس نے تصدیق کی ہے کہ یہ حساب کتاب ڈائریکٹوریٹ جنرل فوڈ پنجاب کے جاری کردہ ریکوری ریٹ کے مطابق کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان تینوں مراکز کی کل نقصان کی مالیت 32 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہےجو انتظامی بدانتظامی اور مبینہ طور پر منظم کرپشن کی نشاندہی کرتا ہے۔ذرائع کے مطابق خوردبرد کے انکشاف کے بعد تینوں فوڈ سنٹرز کے انچارج اپنی ذمہ داریوں سے غائب ہو گئے ہیں جو کہ یہ ان کا جرم تسلیم کرنے کے مترادف ہے لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ان افسران کی سہولت کاری کون کر رہا تھا؟ ایسے میں محکمہ خوراک کے اعلیٰ افسران کی خاموشی اور مبینہ ملی بھگت پر بھی گہرے شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنٹر انچارجز سرکاری گندم کے بنیادی نگہبان ہوتے ہیںلیکن سامنے آنے والی بھاری کمی ان کی غفلت، بدانتظامی اور ممکنہ خوردبرد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ڈیرہ غازی خان تک محدود نہیں۔ ضلع مظفرگڑھ اور ضلع راجن پور میں بھی محکمہ خوراک کے مراکز میں کروڑوں روپے کی اسی نوعیت کی خوردبرد کی اطلاعات ہیں جنہیں محکمہ خوراک کے مقامی افسران نے دانستہ طور پر دبا رکھا ہے۔ یہ پورے ڈویژن میں ایک منظم کرپشن نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہےجس پرپردہ ڈالے جانے کا خدشہ ہے۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے تمام پی آر سنٹرز کی چھان بین کرائی جائےورنہ ہمیشہ کی طرح اس قسم کے کیسز محکمہ خوراک اور محکمہ انٹی کرپشن کی ملی بھگت سے فائلوں کی چھپ کر مٹی کی دھول میں دب جائیں گے۔واضح رہے کہ چند روز قبل ڈیرہ غازی خان پی آر سنٹر پر ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر اے ڈی سی آر اسد چانڈیہ نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے گندم میں مٹی ملاتے ہوئے افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس میگا کرپشن کے خلاف ٹھوس کارروائی کرتی ہے یا پھر طاقتور کرپٹ عناصر کے دباؤ میں آکر اس کیس کو بھی کھوہ کھاتے ڈال دیا جاتا ہے۔







