لیہ : ریونیو افسران کی مبینہ ملی بھگت، اراضی کی معمولی قیمت ظاہر، کروڑوں کا فراڈ

ڈیرہ غازی خان ( کرائم سیل رپورٹ)لیہ :انتقالِ اراضی پر پابندی کے باوجود ریونیو افسران کی دیدہ دلیری، کروڑوں روپے کے فراڈ کا انکشاف،وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی جانب سے انتقالِ اراضی پر عائد پابندی کے باوجود ریونیو محکمے کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کا ایک بھیانک سکینڈل سامنے آیا ہے۔ لیہ کے موضع جام رڈ، کوٹ سلطان شہر میں پٹواری شہزاد اکبر اور نائب تحصیلدار ذیشان غزلانی پر سنگین بدعنوانی اور قوانین کی دھجیاں اڑانے کے الزامات ہیں۔ذرائع کے مطابق ان افسران نے مبینہ طور پر گٹھ جوڑ کر کے 15 کنال 12 مرلے قیمتی شہری و کمرشل اراضی، جس کی مارکیٹ ویلیو اڑھائی کروڑ روپے سے زائد ہے، کو محض 18 لاکھ روپے کی من گھڑت قیمت ظاہر کر کے منتقل کر دیا۔ یوں نہ صرف 26 فیصد سرکاری فیس کی مد میں 60 لاکھ روپے سے زائد کا خسارہ کیا گیا بلکہ قانونی تقاضوں کو بھی پامال کیا گیا۔یہ واقعہ محض ایک انفرادی بدعنوانی نہیں بلکہ ریاستی نظام کی کمزوری اور احتساب کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کے واضح احکامات کے باوجود محکمانہ کارروائیوں میں تساہل اور مبینہ طور پر رشوت کی مد میں 25 لاکھ روپے وصول کرنا ریاستی وسائل کی لوٹ مار کی بدترین مثال ہے۔تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پٹواری شہزاد اکبر، جو کہ جنوری میں اس حلقے میں تعینات ہوا تھا، نے اپنے پیشرو کے اگست 2025 کے ٹوکن کو استعمال کرتے ہوئے مارچ 2026 میں وزیرِ اعلیٰ کی پابندی کی خلاف ورزی کی۔ نائب تحصیلدار نے بھی بیانات قلمبند کر کے اس فراڈ کو قانونی چولہ پہنانے کی کوشش کی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پٹواری خود مجاز نہیں تھا تو پرانے ٹوکن کو فعال کیسے کیا گیا؟ اراضی ریکارڈ سینٹر سے فردات جاری کر کے بعد ازاں منسوخ کرانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ کوئی انسانی بھول چوک نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند سازش تھی۔ معاملہ بے نقاب ہونے پر ان انتقالات کو “خارج” کرنے کا عمل غلطی کو چھپانے کی کوشش لگتا ہے۔شہریوں اور نمائندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ اینٹی کرپشن اس معاملے کی خصوصی انکوائری کرے اور پورے حلقے کا شفاف آڈٹ کیا جائے۔ریونیو افسران کی اس “دو نمبری” نے نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ عوام میں ریاستی اداروں پر اعتماد کو بھی متزلزل کیا ہے۔ جب تک ان افسران کے خلاف تادیبی اور قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی اور اس نظامی خرابی کا قلع قمع نہیں کیا جاتا، اس قسم کے واقعات مستقبل میں بھی دہرائے جاتے رہیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں