لیاقت پور:لڑکی سے اغوا و زیادتی کیس، دو ملزمان ضمانت پر، دو فرار

لیاقت پور (نامہ نگار) تھانہ لیاقت پور کا تفتیشی آفیسر لڑکی کے اغوا اور زیادتی کے ملزمان کا سہولت کار، چار ملزمان میں سے دو کی عبوری ضمانتیں کروا دیں دو بغیر ضمانت کے دندناتے لگے تفصیل کے مطابق 17 سالہ ثنا شبیر چک نمبر 20 عباسیہ جناح آبادی لیاقت پور میں اپنے ماموں صابر علی کے پاس رہائش پذیر ہے 8 اکتوبر کو وہ اپنے کمسن کزنز کو قرآن مجید کی تعلیم کے لیئے مولوی کے گھر چھوڑنے جا رہی تھی کہ اچانک چار افراد اصغر علی، محمد عمر، محمد خالد اور محمد طاہر ساکنان صادق آباد نے اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کار میں ڈالا اور فرار ہو گئے اس وقوعہ کا مقدمہ صابر علی کی مدعیت میں تھانہ لیاقت پور میں درج کیا گیا ملزمان نے صادق آباد کے علاقہ میں پہنچ کر اسے ایک ڈیرے پر محبوس کر دیا جہاں محمد خالد اس سے زبردستی زیادتی کرتا رہا 13 اکتوبر کو ملزمان اسے اپنے حق میں بیان دلوانے احاطہ کچہری صادق آباد لائے جہاں اس کا ماموں صابر علی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پہنچ چکا تھا جسے دیکھتے ہی مغویہ نے شور مچا دیا اس صورتحال پر ملزمان اسے موقع پر چھوڑ کر فرار ہو گئے ثنا شبیر نے لیاقت پور پہنچ کر مجسٹریٹ کی عدالت میں بتایا کہ اس نے پولیس کو جو بیان دیا ہے وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہنا چاہتی ملزمان کی طرف سے ثناء شبیر کے اغوا کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود اور زیادتی کے الزام کی تصدیق کے باوجود تھانہ لیاقت پور کا تفتیشی سب انسپکٹر شبیر چوہان مقدمہ خراب اور ملزمان کو ریلیف دینے پر تلا ہوا ہے تفتیشی آفیسر کی مہربانی سے دو ملزمان نے عبوری ضمانت کروا لی جبکہ دو بغیر ضمانت آزاد گھوم رہے ہیں جو صادق آباد اور رحیم یارخاں کے بااثر افراد سے پریشر ڈلوا اور مبینہ بھاری رشوت کے عوض الٹا متاثرہ لڑکی اور اس کے ماموں کو جھوٹا ثابت کرنے کی سازش کر رہے ہیں ثناء شبیر نے اپنے ماموں صابر علی کے ہمراہ پریس کلب لیاقت پور میں دہائی دیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پی، آر پی او بہاولپور اور ڈی پی او رحیم یارخان سے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں