لودھراں: 11 شہری مواضعات میں پٹواریوں کا ہیر پھیر، کمرشل اراضی سکنی ظاہر

ملتان (عوامی رپورٹر)لودھراں شہر کے 11 شہری مواضعات میں اراضی رجسٹریوں کے دوران پٹواریوں کی جانب سے ابتدائی رپورٹوں میں مبینہ دانستہ ہیر پھیر کرکے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہری علاقوں میں کمرشل اراضی کو سکنی اور سکنی کو زرعی ظاہر کرکے رجسٹریوں میں شیڈول تبدیل کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری فیسوں، اسٹامپ ڈیوٹی اور دیگر واجبات کی مد میں بھاری رقوم خوردبرد کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔پٹواری کاشف ظفر اور پٹواری حافظ شکیل صدیق مبینہ طور پر ابتدائی رپورٹس میں رد و بدل کرکے قیمتی اراضی کی قیمت کم ظاہر کرتے رہےتاکہ حکومتی واجبات میں کمی کرکے مبینہ طور پر کروڑوں کی کرپشن کی جا سکے۔ موضع ساندھی والا غیر اربن کی رجسٹری نمبر 11620260000688، لودھراں غیر اربن 11620260000685، ٹھڈہ تھہیم غیر اربن 11620260000681، ٹھڈہ تھہیم اربن 11620260000677، لودھراں غیر اربن 11620260000676، ساندھی والا اربن 11620260000661، ساندھی والا غیر اربن 11620260000652 اور لودھراں غیر اربن 11620260000643 سمیت متعدد رجسٹریوں کی ابتدائی رپورٹس میں واضح تضادات پائے گئے ہیں۔ان رجسٹریوں میں مبینہ طور پر زمین کی اصل نوعیت، موجودہ پوزیشن، شیڈول اور مارکیٹ ویلیو میں دانستہ رد و بدل کرکے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان رجسٹریوں کا غیر جانبدارانہ آڈٹ اور دوبارہ جانچ پڑتال کرائی جائے تو مبینہ کرپشن کی پوری چین کھل کر سامنے آ سکتی ہے۔انکشاف ہوا ہے کہ لودھراں کے شہری علاقوں کے 11 مواضعات میں دونوں پٹواری طویل عرصے سے تعینات ہیں اور اسی مسلسل تعیناتی کے دوران مبینہ طور پر ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے کروڑوں روپے کے اثاثے بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس مبینہ نیٹ ورک میں پٹواری کاشف ظفر کا ماموں منشی قاسم، ظفر جھنج، زوار، عمران اور زاہد مرکزی کردار ادا کرتے رہے، جو رجسٹریوں کے عمل میں سہولت کاری کے نام پر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں، جبکہ بغیر نذرانہ دیے فائل کا آگے بڑھنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔شہری، سماجی اور قانونی حلقوں نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پٹواری کاشف ظفر، پٹواری حافظ شکیل صدیق اور ان کے منشیوں کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں، ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے تحت کارروائی کی جائے اور لودھراں کے شہری مواضعات کے لینڈ ریکارڈ کا فوری شفاف آڈٹ کرایا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت نوٹس نہ لیا گیا تو لودھراں میں اراضی کا نظام مکمل طور پر مافیا کے رحم و کرم پر چلا جائے گا، جس کے نتائج ایک بڑے قانونی اور سماجی بحران کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔موقف لینے پر دونوں پٹواریوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں