لودھراں: پولیس کانسٹیبلز کی خاتون کیساتھ مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ

لودھراں(ڈسٹرکٹ رپورٹر) پولیس کانسٹیبلز کی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ، مقدمہ درج کرلیاگیا۔ بستی شیر پور کی رہائشی ماریہ بی بی نے الزام لگایا ہے کہ دو پولیس کانسٹیبلز نے نہ صرف اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا بلکہ اسے بلیک میل کرکے اس کی خاندانی زندگی تباہ کر دی۔خاتون کے مطابق ملزمان غلام رسول ولد نیاز احمد اور محمد زاہد ولد محمد ساجد نے گزشتہ دو سال کے دوران اس کے ساتھ متعدد مواقع پر زیادتی کی۔ خاتون نے بتایا کہ تقریباً تین ماہ قبل محمد زاہد نے اسے لودھراں شہر بلایا اور بائی پاس پر ایک مکان میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایاجس کے بعد اس نے ملزمان سے رابطہ ختم کر دیا۔بعد ازاں تقریباً ڈھائی ماہ قبل غلام رسول نے ملاقات کے بہانے اسے پارک بلایا اور وہاں بھی ناجائز فعل انجام دیا۔ اس دوران اس نے خاتون کی برہنہ تصاویر بنائیں اور ان تصاویر کے ذریعے اسے بلیک میل کیا۔ ملزمان نے تصاویر شوہر کو دکھا کر خاتون کے شوہر کو اس کے خلاف کر دیاجس کے نتیجے میں خاتون کو طلاق دی گئی۔خاتون نے اپنے والدین اور دو گواہوں کے ہمراہ تھانہ لودھراں میں تحریری درخواست دی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ دونوں ملزمان پولیس کانسٹیبل ہیں، اس لیے واقعے کی فوری اور شفاف تفتیش کی جائے۔ گواہوں میں نوید اختر ولد مطاعمہ اور محمد تیم سعید شامل ہیں، جنہوں نے واقعے کی تصدیق کی۔پولیس رپورٹ کے مطابق مقدمہ دفعہ 292 اور 376-1 کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں