لودھراں(بیورو رپورٹ) قیامت خیز گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں مزدور خوار ہونے لگے ۔گزشتہ کئی روز سے اپنی اجرت لینے کیلئے مقامی ایم پی اے اورافسران کے دفاتر کے چکر کاٹنے کے علاوہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔بے روزگار ہونے والے سینکڑوں مزدوروں کا ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ ۔مل مالک پر لاکھوں روپے مزدوری دیے بغیر مل سے نکال دینے کا الزام ۔ہمیں ہماری اجرت دلوائی جائے ۔ہمارے گھروں میں بھوک ناچ رہی ہے ۔مگر کوئی بھی ہمیں انصاف نہیں دلوا رہا ۔وزیر اعلیٰ پنجاب ہمیں انصاف دلائیں۔مزدور رہنمائوں کی میڈیا سے گفتگو ۔تفصیل کے مطابق بدھ کے روز مقامی نجی سپننگ مل کے سینکڑوں مزدوروں نے ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے کے علاوہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزدور رہنمائوںاللہ رکھا،محمد عثمان،محمد زاہد، رستم بلوچ وغیرہ نے الزام لگایاکہ ہم گزشتہ کئی سالوں سے سلور لائن سپننگ مل میں مزدوری کر رہے ہیں۔ مل مالک نے 2021 کے بھی ہماری مزدوری کی لاکھوں روپے کی رقم ادا کرنی ہےاور اب موجودہ 3ماہ کی مزدوری کی رقم جوکہ لاکھوں میںبنتی ہے وہ بھی ہمیں نہیں دی جا رہی۔ ہم نے اپنی مزدوری کی خاطر مل کا باہر احتجاج کیا تو مالک نے پولیس بلا کر ہمیں وہاں سے بھگا دیا ۔جس کے بعد ہم ڈی پی او کے علاوہ ڈی سی کے پاس کئی چکر لگا چکے ہیں اور انہیں تمام حقائق سے بھی آگاہ کر چکے ہیں ۔آج بھی ہمیں پابند کیا گیا تھا کہ مل مالک کے سامنے آپ کی مزدوری کا مسئلہ حل کرایا جائے گا لیکن مل مالک نے خود آنے کی بجائے اپنے دو آدمی بھجوا دیے ہیں جبکہ ہمارا معاملہ مل مالک کے آنے پر ہی حل ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہم مقامی ایم پی اے کے پاس بھی گئے اور جگہ جگہ کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں کہ کوئی ہمیں انصاف دلاتے ہوئے ہماری مزدوری کی رقم ہمیں دلوا دے۔ ہمارے سینکڑوں خاندانوں کے گھروں میں فاقے ہیں۔اور قیامت خیز گرمی کے باوجود روزانہ خوار ہو رہے ہیں۔ مظاہرین نے مل مالک کے خلاف نعرے بازی بھی کی اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازسے مطالبہ کیا ہے کہ ہماری مزدوری کی رقم ہمیں دلوائی جائے۔







