ملتان( کرائم سیل) گٹر میں گر کر موت کے منہ میں جانے والے معصوم بچے کے والدین کووزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے امدادی چیک تو مل گیا لیکن25 روز گزر جانے کے باوجود عہدے سے ہٹائی گئی سابق ڈپٹی کمشنر سمیت ہائی وے، ضلع کونسل اور دیگر متعلقہ افسران کے علاوہ ٹھیکیداروں کیخلاف ہونیوالے اندارج مقدمہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے آئی انکوائری ٹیم کا فیصلہ سامنے نہ آ سکا اور نہ ہی چار بہنوں کے اکلوتے بھائی سات سالہ ریحان کی موت کے ذمہ داران کا تعین کیا جاسکا ہے۔ہنگامی طور پر ڈسٹرکٹ لودھراں میں لگائے گئے گٹروں کے ڈھکن کے آہنی رنگ پھر سے غائب ہو رہے ہیں۔ شہر ،گلیاں، محلے سیوریج کے پانی میں پھر سے ڈوبے ہوئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق دھنوٹ میں گٹر میں گر کر جا ںبحق ہونیوالے سات سالہ معصوم بچے ریحان کا امدادی چیک ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندہ لیکر گھر پہنچ گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونیوالے بچے کے والدین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے چیک انکے حوالے کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی طرف سے ڈپٹی کمشنر محمد اشرف نے مرحوم بچے کے والد کو 10 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔ سابق ایم پی اے شاہ محمد جوئیہ، اسسٹنٹ کمشنر اصغر لغاری و دیگر ڈی سی کے ہمراہ تھے۔ ذرائع کے مطابق لودھراں کی سابق ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر لبنیٰ نذیر کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد محکمہ ہائی وے اور ضلع کونسل کے افسران اور ٹھیکیدار کیخلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ بھی درج کروایا گیا تھا لیکن بچے کی موت کے25 روز بعد تاحال ذمہ داران کیخلاف مزید کارروائی یا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا کہ اصل ذمہ داران کون ہیں۔ گٹروں کے ڈھکن اور دیگر کاموں کی مد میں ضلع کونسل اور میونسپل کمیٹی سے ایڈوانس اور کوٹیشنز کی مد میں سرکاری فنڈز سے سابقہ ڈپٹی کمشنر نے کروڑوں روپے کا کام کروایا جن کی تحقیقات تاحال باقی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سابقہ ڈپٹی کمشنر لودھراں سمیت دیگر افسران کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونیوالی چھان بین بھی روک دی گئی ہے اور ذرائع کے مطابق ضلعی معطل افسران ہائی وے اور ضلع کونسل کی بحالی کاغذوں کی حد تک تو ہو چکی ہے۔







