لودھراں(جنرل رپورٹر) لودھراں اربوں روپے کی سرکاری اراضی پر قبضہ عمارتیں اور کمرشل مارکیٹیں بنانے کا معاملہ، روزنامہ قوم کی نشاندہی پر ضلع بھر میں کھلبلی انتظامیہ سماجی حلقوں کا خراج تحسین پیش پٹواری کے خفیہ دفتر میں کالا دھندہ جاری خفیہ ایجنسیوں نے بھی معلومات جمع کرنا شروع کر دیں قبضہ گروپوں کی ممبران اسمبلی کے ڈیرے پر حاضری بچاؤ کی استدعا کرنےلگے۔سٹیڈیم روڈ پر واقع صوبائی حکومت کی اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی پر قبضے کے معاملے میں تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ البتہ تحقیقاتی اداروں نے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے سالہاسال سے موجود قبضہ مافیا میں بھی کھلبلی مچ گئی ہے جبکہ عرصے سے قابضین نے بھی اپنے بچاؤ کے لیئے مقامی ممبران اسمبلی کے ڈیرے پر حاضری دیکر رحم کی اپیل کا مطالبہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سابقہ نالہ شیخواہ کے نام سے معروف 58 کنال 8 مرلے رقبہ طویل عرصے سے قبضہ مافیا کے تصرف میں ہے، اور اس پر قائم درجنوں مکانات، پلازے، کمرشل مارکیٹیں اور دکانیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔شہری جمشید نے ڈپٹی کمشنر لودھراں کو درخواست دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ پٹواری کاشف ظفر اپنے پرائیویٹ منشیوں کے ہمراہ ایک خفیہ مکان میں بیٹھ کر سرکاری ریکارڈ میں تبدیلیاں کر رہا ہے۔پٹواری اپنے منشیوں کے ہمراہ ملکر جعلی فردِ ملکیت، غیر قانونی رجسٹریاں اور آن لائن ریکارڈ اپ ڈیٹس کے تمام عمل سرانجام دے رہے ہیں۔ حیران کن طور پر اس پٹواری کو نہ تو تبدیل کیا گیا اور نہ ہی حکام کی جانب سے اس سے کسی قسم کی رپورٹ طلب کی گئی، جس سے شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کی سرکاری اراضی جس پر ناجائز قابضین نے قبضہ کیا ہوا ہے پہلے تو گورنمنٹ پنجاب اس کو اپنی تحویل میں لے اگر نہیں تو اس قیمتی اراضی کا تخمینہ لگا کر قابض لوگوں سے ریونیو جمع کرکے حکومتی خزانے میں جمع کروایا جائے دوسری جانب ریکارڈ میں ہیر پھیر ردوبدل کرنے والے پٹواری کاشف ظفر سمیت دیگر ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے عملے کے خلاف بھی سخت ایکشن لیکر کارروائی کرتے ہوئے انہیں سزا دی جائے اہلیانِ علاقہ نے بتایا کہ پٹواری ٹیکنیکل حربے استعمال کرتے ہوئے قبضہ گروپوں کو سرکاری زمین پر مالکانہ حقوق فراہم کر رہا ہے۔ سابقہ تاریخوں کی جعلی فردِ ملکیت تیار کی جاتی ہے، کھیوٹ نمبر 348 اور 349 کے درمیان قبضہ اور ریکارڈ منتقل کیا جاتا ہے، اور نئی رجسٹریوں کے ذریعے قبضے کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شہری کے مطابق یہ حربے پچھلے پٹواریوں کے دور سے جاری تھے، مگر موجودہ پٹواری انہیں کھلے عام اور دیدہ دلیری سے انجام دے رہا ہے۔ پلازے اور دکانیں بھاری کرایہ پر چل رہی ہیں، بعض جگہیں 20 ہزار روپے ماہانہ یا اس سے زائد کرایہ وصول کر رہی ہیں، جبکہ سرکاری خزانے کو اس قبضے کے باعث روزانہ نقصان پہنچ رہا ہے۔سماجی، سیاسی اور کاروباری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے پٹواری کے خفیہ دفتر کا معائنہ کیا جائے۔تمام سرکاری ریکارڈ تحویل میں لے کر آڈٹ کرایا جائے قبضہ گروپوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے جعلی رجسٹریوں اور انتقالات کے پورے نیٹ ورک کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کے تحفظ میں ناکامی سے حکومت اور خزانے کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔







