لودھراں: آن لائن جوا نیٹ ورک کیخلاف کاروائی، سیاسی مداخلت، ڈیل پر ڈھیل میں تبدیل

ملتان (کرائم سیل رپورٹ)لودھراں میں اربوں روپے کے انٹرنیشنل جوئے کے خلاف ملتان کے سائبر کرائم ونگ کی سخت ترین کارروائی 48 گھنٹوں میں ہی سیاسی مداخلت اور بھاری ڈیل کے بعد مکمل طور پر ڈھیل اور سہولت کاری میں بدل گئی۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل کے ساتھ مبینہ ڈیل کی ۔ڈیل فیصل آباد کی پارٹی کے علاوہ ایک رکن اسمبلی کے ذریعے ہوئی۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی پارٹی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اس انٹرنیشنل جوئے میں لودھراں والوں کے حصے دار ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک سیاسی شخصیت کے سخت دباؤ کے بعد بھی سائبر کرائم کے حوالے سے نئے قائم ہونے والے تحقیقاتی ادارے ڈھیر ہو گئے تفصیلات کے مطابق این سی سی آئی اے ملتان نے لودھراں میں طویل عرصے سے قائم آن لائن بیٹنگ نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک اہم گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کے دوران ملزم راؤ ماجد گرفتار کر لیا گیا جبکہ اس کا بڑا بھائی راؤ پرستار فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ دونوں بھائی جنوبی پنجاب میں آن لائن بیٹنگ اور سودی کاروبار کے بڑے ڈیلرز تصور کیے جاتے ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق یہ نیٹ ورک Betpro، 1xBet، Binomo سمیت غیر قانونی بیٹنگ ایپس کے ذریعے شہریوں کو جوا کھیلنے پر اکساتا تھا۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم راؤ ماجد کی جانب سے ایک سیاسی بندے کو تین کروڑ روپے تک کی مبینہ ڈیل کی آفر کی گئی تھی، جبکہ ابتدائی ڈیل پانچ کروڑ روپے سے شروع ہوئی تھی۔ اطلاعات یہ بھی ملی ہیں کہ سابق ن لیگی چیئرمین بلدیہ لودھراں نے بھی اس ڈیل میں مرکزی کردار ادا کیا اور ڈیل میں معاملہ میڈیا میں ہائی لائٹ ہونے کے بعد ایک کروڑ روپیہ ملزمان نے ضمانت کے طور پر رکھوا دیا اور طے ہوا کہ چار روزہ ریمانڈ کے دوران ہی اس ڈیل کے بدلے ملزمان کو ریلیف دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک صرف آن لائن جوا اور سودی کاروبار تک ہی محدود نہیں بلکہ پبلک اور سرکاری ملازمین کی بھاری سرمایہ کاری بھی کرواتا ہے۔ حیران کن انکشاف یہ ہے کہ لودھراں میں متعدد پولیس افسران اور دیگر محکموں کے ملازمین ان کے خفیہ کلائنٹس ہیں۔ یہ لوگ ملزمان سے سود پر گاڑیاں، پلاٹ، گھر اور قیمتی موبائل فون حاصل کر چکے ہیں اور بدلے میں انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔مزید برآں ان ملزمان کا ڈیرہ جو “ڈبہ تلواڑہ” کے نام سے مشہور ہے جو مبینہ طور پر پولیس کے ایک نجی ٹارچر سیل کے طور پر استعمال ہوتا ہے اس لیے وہاں ہر وقت پولیس کا انا جانا لگا رہتا ہے اور وہاں لائے گئے افراد کو “ہاٖف فرائی” کرنے جیسے غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پولیس مبینہ طور پر اپنے اور ملزمان کے قرضے یا ریکوریاں بھی اسی ڈیرے پر بندے اٹھا کر کرتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس نیٹ ورک میں غیر ملکی کمپنیوں کی ڈیلر شپ لے کر ان لائن جوئے کاروبار کروانے والے اس گروہ میں درجنوں خواتین اور مرد اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں جن سے تفتیش اور گرفتاری سے اس نیٹ ورک کو توڑا جا سکتا ہے مگر مبینہ طور پر ڈیل کے بعد این سی سی ائی کے تفتیشی افسران نے گرفتار ملزمان کے ساتھ ڈیل کے بدلے ڈھیل دی جائے گئی اور نیٹ ورک میں شامل دیگر ملزمان کو نہیں پکڑا جائے گا اطلاعات کے مطابق ان لائن جوئے سے منی لانڈرنگ بھی ہوتی تھی اور ایک مخصوص حصہ ان ڈیلرز کو ملتا تھا باقی رقم غیر ملکیوں کے اکاؤنٹ میں جاتی تھی اور اس طرح کے آن لائن جوئے میں بہاولپور کی بھی کئی پارٹیاں آن لائن جوئے کے کاروبار میں ملوث ہیں جن کے حوصلے بھی اس ڈیل کے بعد بڑھ جائیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں