این اے 155میں مختلف ترقیاتی کام شروع کروانے کیلئے مبینہ چہیتے ٹھیکیدار خالدکو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل،محکمانہ پالیسی نظرانداز
غیر معیاری میٹریل استعمال،جون کلوزنگ کےباعث راتوں رات چھوٹے چھوٹے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کئے بغیر ہی بل پاس کروا لئے
ملتان( عوامی رپورٹر) محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ٹھیکیدار کی اندھیر نگری،انتہائی ناقص اور غیر معیاری میٹریل استعمال کرکے ادھورے کام چھوڑ کر تمام قوانین نظر انداز کرتے ہوئے بل نکلوائے جانے کا انکشاف ہواہے ۔افسران اپنے ایئر کنڈیشن دفاتر میں بیٹھ کر اپنے چہیتے اور بااثر ٹھیکیدار کے بل پاس کرنے لگے۔کروڑوں روپے کے فنڈز ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع سے انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ لودھراں کے 6 کروڑ روپے کی لاگت سے حلقہ این اے 155میں مختلف ترقیاتی کام شروع کروانے کیلئے اپنے ایک مبینہ چہیتے ٹھیکیدار خالد نامی جسے سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہےکو مبینہ طور پرمحکمہ کی پالیسیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بیشتر کاموں کے ٹھیکے دے رکھے ہیں۔ جون میں مالی سال کی کلوزنگ کی وجہ سے جاری اور مکمل کئے گئے ترقیاتی کاموں میں مبینہ طور پر غیر معیاری میٹریل استعمال کرتے ہوئے محکمہ کے تمام قوانین وضوابط کو پس پشت ڈال کر راتوں رات چھوٹے چھوٹے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کیے بغیر ہی بل پاس کروا لیے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں لگائی گئی ٹف ٹائلز بھی اکھڑنا شروع ہو گئی ہیں اور کئی گلیوں میں مین ہول بنائے بغیر ہی مین ہولوں پر ٹف ٹائل لگا کر انہیں بند کر دیا گیا۔ کئی علاقوں میں جہاں مین ہولز بنا کر ان پر پلاسٹک کے ڈھکنے رکھے گئے ہیں جوکہ اس قدر غیر معیاری ہیں کہ ایک ماہ میں دوسری بار ٹوٹ چکے ہیں مگر محکمہ پبلک ہیلتھ کے افسران جو کہ اس مبینہ با اثر ٹھیکیدار پر اس قدر مہربان ہیں کہ نہ تو سائٹ وزٹ کرتے ہیں اور نہ ہی ترقیاتی منصوبوں کا معیار چیک کرتے ہیں اور نہ ہی ٹھیکیدار سے محکمہ کے قوائد و ضوابط کے مطابق کام لیتے ہیں بلکہ دفاتر ہی میں بیٹھ کر اور اپنا مبینہ اور طے شدہ کمیشن وصول کر کے بل پاس کرنے میں مصروف ہیں۔جبکہ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ٹھیکیدار اس قدر با اثر ہے کہ اس نے محکمہ پبلک ہیلتھ پر مبینہ طور اپنا سکہ جمایا ہوا ہے اور اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس نے اپنے مرضی کے بل پاس نہ کرنے پر ایک ایکسین کو ہی کو تبدیل کروا دیا اور اپنے من پسند ایکسین کو دوبارہ تعینات کروا لیا ہے۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز ،چیف سیکرٹری پنجاب،ڈی جی انٹی کرپشن کے نام الگ ایگ درخواستوں میں محکمہ پبلک ہیلتھ کا ریکارڈ قبضہ میں لیکر خالد نامی ٹھیکیدار سمیت تمام ٹھیکیداروں کے ترقیاتی منصوبوں کو چیک کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے پر مبینہ کرپشن میں ملوث افسران اور ٹھیکیدار کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے۔ورنہ کروڑوں روپے کے فنڈز ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔اس سلسلہ میں رابطہ کرنے پر ایس ڈی او پبلک ہیلتھ فلک شیر نے کہا ہے کہ اگر کوئی کام ادھورا یا غیر معیاری میٹریل استعمال کرنے کی شکایت ہمیں موصول ہوئی تو ان شکایات کا ازالہ کرایا جائے گا کیونکہ محکمے نے کوئی بھی کام غیر قانونی نہیں کرایا۔






