ملتان(کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے مختلف الزامات ثابت ہونے پر 3 سول ججز کو ملازمت سے برطرف کرنے، ایک کو سنشور کی سزا دینے اور ایک کے خلاف انکوائری ختم کر دی گئی ہے۔ رجسٹرار امجد اقبال رانجھا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج راولپنڈی محمد اسلام کے خلاف مس کنڈکٹ اور نااہلی، سول جج لاہور نسیم اختر ناز کے خلاف مس کنڈکٹ اور بدعنوانی، سول جج جہلم سرمد سلیم کو بیرون ملک رخصت لے کر واپس نہ آنے کے الزامات پر پنجاب سول سرونٹس (ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1999 کے تحت بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات پر کارروائی شروع کی گئی تھی۔ تحقیقاتی افسر نے الزامات کو درست پایا اور مذکورہ سول ججز کو ملازمت سے برخاست کرنے کی سفارش کی۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ اور ججز نے بطور اتھارٹی ریکارڈ کا جائزہ لیا اور ذاتی سماعت کا موقع فراہم کیا۔ جس پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف نے ذاتی سماعت کی اور تحقیقاتی افسر کی سفارشات سے اتفاق کیا۔ تمام کارروائی اور ذاتی سماعت کے بعد فاضل چیف جسٹس اور ججز نے مذکورہ بالا تینوں ججز پر عائد الزامات کا قصوروار پایا اور فوری طور پر ملازمت سے برخاستگی کی بڑی سزا نافذ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ سول جج کوٹ مومن محمد خرم کو سنشور کی معمولی سزا کا حکم دیا ہے۔ ہائیکورٹ نے سول جج چیچہ وطنی عمران عابد کو الزامات سے بری کر دیا ہے۔







