بہاولپور ( کرائم سیل) مستقل کنزرویٹر بہاولپور کامران کاظمی کے چارج سنبھالنے کے باوجود سابقہ کنزرویٹر کے دور میں شروع ہونے والے لال سوہانرا ڈویژن میں ترقیاتی کاموں، ری سیڈنگ پراجیکٹ اور پلانٹیشن میں ہونے والی کرپشن اور لکڑی چوری کا سلسلہ نہ رک سکا۔ جبکہ اس وقت لال سوہانرا کی مختلف رینجوں میں ایسے ملازمین تعینات ہیں جو چند سال پہلے راجن پور کے جنگل کی تباہی کے ذمہ دار تھے اور جن پر اب چھ کے قریب کرپشن کے مقدمات درج ہو چکے ہیں اور ان کی گرفتاری متوقع ہے، وہی افسران آج بھی لال سوہانرا نیشنل پارک میں سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ روزنامہ قوم میں رینج لینڈز سکیم کے فنڈز میں خورد برد ، بلاک نمبر 5 اور 6 میں بلاک افسر وجیہ الحسن اور اجمل بلوچ کے ذریعے منظم انداز میں لکڑی چوری کروانے اور بڑے پیمانے پر نقصان کی نشاندہی کے باوجود کارروائی نہیں کی گئی جسکی تصدیق اسی بلاک میں نئے تعینات ہونے والے گارڈ معروف چنڑ نے نقصان شدہ درختوں پر خصوصی نشانات لگا کر نقصان کی رپورٹیں تیار کیں اور افسران کو آگاہ کیا، لیکن ان کے خلاف بھی نہ کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کا اقدام اٹھایا گیا۔اسی طرح حاصل پور رینج کی انکوائری نمبر 101-7 سی سی میں انکوائری افسر نے 63 لاکھ 51 ہزار روپے کی ریکوری اور پیڈا کے تحت قصوروار ملازمین کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی، لیکن انتظامی افسر ڈی ایف او نے وہ فائلیں دبا دیں۔ اسی طرح بلاک افسر وجیہ الحسن کی جانب سے بیلداروں کی تنخواہیں خود ہڑپ کرنے اور بیلداروں کو لکڑی چوری کی کھلی اجازت دینے کی نشاندہی پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔رینج افسر احمد نواز گڈن سمیت متعدد ملازمین کی تعلیمی اسناد مشکوک ہیں، جبکہ گارڈ احمد یوسف کی جانب سے رینج افسر احمد نواز گڈن کی ایماء پر ٹمبر مافیا سے رقم مانگنے کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہونے کے باوجود نہ رینج افسر کے خلاف کارروائی ہوئی اور نہ ہی کسی دیگر ملازم کے خلاف4705 ایکڑ وسیع رقبے پر مشتمل جھیل کے قریب جنگل کو پہنچنے والے نقصان کا الزام احمد یوسف گارڈ پر ڈال کر بلاک افسر وجیہ الحسن کو بچانے کی کوشش کی گئی، لیکن اس انکشاف کے باوجود کنزرویٹر بہاولپور کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے میں یکسر ناکام، بے بس اور لاچار نظر آ رہے ہیں۔اسی طرح روزنامہ قوم نے سال 2023، 2024 اور 2025 میں مختلف اسکیموں میں لگائے گئے بجٹ اور دیگر تفصیلات پنجاب حکومت کے قوانین کے تحت طلب کرنے کی درخواست بھی دی، مگر ابھی تک یہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا کیونکہ ’’پیٹی بھائیوں‘‘ کا تحفظ کرنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ کیونکہ اسی دوران رینج لینڈ اسکیم، پلانٹیشن اور ری سیڈنگ پروجیکٹ میں بڑے پیمانے پر گھپلے ہوئے تھے۔ان تمام نشاندہیوں پر کنزرویٹر کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے کے بجائے اپنے ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے رابطہ کرنے پر ڈی ایف او لال سوہانرا سے تفصیلات معلوم کرنے کا کہہ دیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ڈی ایف او طارق سناوا نے روزنامہ قوم کے انکشافات کے بعد اپنے تمام ملازمین کو جلد از جلد اپنے علاقوں میں نقصان ریکور کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’چاہے ایف آئی آر درج کرواؤ، ڈیمیج رپورٹیں کاٹو، منڈیاں جلا دو یا غائب کر دو، مجھے کسی قسم کے نقصان کے نشانات نہیں ملنے چاہئیں۔‘‘ اسی طرح ایک بلاک افسر کی جانب سے سابقہ ری سیڈنگ پروجیکٹ میں ’’حصہ‘‘ مانگنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ ’’اب میں نے آپ کا تحفظ کرنا ہے، اگر حصہ دو گے تو محفوظ رہو گے، ورنہ آپ کے خلاف کارروائی ہوگی۔‘‘اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا وہ ملازمین ڈی ایف او کو ری سیڈنگ پراجیکٹ میں حصہ دیتے ہیں یا نہیں۔اگر ان پر کاروائی ہوتی ہے تو اسکا مطلب ہے نہیں دیا اگر نہیں ہوتی تو سمجھ لیں کہ دیدیا ہے۔








