لال سوہانرا: سرکاری جنگلات پر مافیا قابض، ”قوم” کی نشاندہی درست ثابت، سرغنہ محفوظ

بہاولپور(تحصیل رپورٹر)لال سوہانرا کے علاقے میں لاکھوں ایکڑ سرکاری جنگلاتی رقبے پر قبضہ مافیا کے دوبارہ منظم ہونے اور سرکاری زمینوں پر قبضے کی کوششوں سے متعلق روزنامہ قوم کی خبر درست ثابت ہو گئی ہے، جہاں جنگلات ملازمین کی مبینہ سہولت کاری سے پہلے ختم کروایا گیا قبضہ دوبارہ بحال کرنے کے لیے قبضہ مافیا سرگرم ہو گیا تھا، تاہم سیکرٹری جنگلات کے احکامات پر کنزرویٹر اور ڈی ایف او لال سوہانرا کی قیادت میں کارروائی عمل میں لائی گئی اور افسران نے موقع پر پہنچ کر ناجائز قابضین کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے قبضہ مافیا کی جانب سے کاشت کی گئی فصلوں پر ہل چلا دیا جس سے دوبارہ قبضے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، مگر حیران کن طور پر قبضہ مافیا کے مبینہ سرغنہ گارڈ بابر کے خلاف تاحال نہ کوئی محکمانہ کارروائی ہو سکی ہے اور نہ ہی کسی انکوائری کا آغاز کیا جا سکا، ذرائع کے مطابق کرپشن اور دیگر متنازعہ معاملات میں ملوث گارڈ بابر کو بعض افسران کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے جو اس کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جبکہ روزنامہ قوم کے مطابق مذکورہ گارڈ نے ایس ڈی او کی سرکاری کوٹھی پر بغیر اجازت اور بغیر ہاؤس رینٹ ادا کیے رہائش اختیار کر رکھی ہے جہاں سولر پلیٹیں اور دیگر سامان اکٹھا کر کے دوبارہ قبضے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، مزید انکشاف ہوا ہے کہ جو رینج افسران اور دیگر عملہ قبضہ مافیا کے خلاف دیانت داری سے کارروائیاں کر رہے ہیں ان کے خلاف یہی کرپٹ گارڈ منفی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے انہیں بدنام کرنے اور دباؤ میں لانے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے کیونکہ افسران اس کے خلاف قبضہ مافیا کی سہولت کاری اور دیگر نجی ناجائز سرگرمیوں پر کارروائی کے لیے متحرک ہیں، اگرچہ سیکرٹری جنگلات کی ہدایت پر موقع پر کارروائی کر دی گئی مگر مرکزی کردار کے خلاف تاحال قانونی کارروائی نہ ہونا کئی سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔موقف لینے کے لیے جب گارڈ بابر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی کرنا افسران کا کام ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں