بہاولپور (تحصیل رپورٹر)نیشنل پارک لال سوہانرا بہاولپور کے وسیع سرکاری جنگلاتی رقبے پر محکمہ جنگلات کے بعض ملازمین اور بااثر قبضہ مافیا کے مبینہ گٹھ جوڑ کا انکشاف، سرکاری زمین پر کھلم کھلا بڑے پیمانے پر سرسوں اور گندم کی فصلیں کاشت کیے جانے کی اطلاعات منظرِ عام پر آگئیں۔ شہری کی جانب سے کنزرویٹر اور متعلقہ اعلیٰ حکام کو تحریری درخواست دینے کے باوجود کسی قسم کی کارروائی نہ ہونے سے سماجی حلقوں میں مایوسی چھاگئی۔تفصیل کے مطابق نیشنل پارک لال سونہارا کے عقب میں موجود جنگلاتی رقبہ گزشتہ کافی عرصہ سے بااثر عناصر اور کچھ مبینہ فاریسٹ ملازمین کے قبضے میں ہےجہاں محکمانہ نگرانی کے باوجود ہزاروں ایکڑ پر فصلیں تیار کھڑی ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ صورتحال محکمے کی مبینہ چشم پوشی اور ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔شہری کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ متعدد شکایات، یاد دہانیوں اور درخواستوں کے باوجود نہ تو کوئی کارروائی عمل میں آئی اور نہ ہی قبضہ مافیاز کے خلاف کوئی عملی ایکشن لیا گیا۔ شہری کے مطابق اس نے اعلیٰ افسران کو تحریری طور پر تمام ثبوت بھی فراہم کیے، مگر ٹال مٹول اور خاموشی کا سلسلہ برقرار ہے۔خاموش ہونے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے دوسری جانب محکمہ جنگلات کے ایک سابق اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیشنل پارک لال سونہارا کا رقبہ عرصہ دراز سے محکمہ کے چند افراد جوکہ ایک عرصے سے قابضین ہیں ان کی ملی بھگت سے قبضہ گروپوں کے نشانے پر ہے جبکہ متعلقہ عملے کی مبینہ پشت پناہی کے باعث کارروائی نہ ہونے نے اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔مقامی عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل پارک کی سرکاری زمین کا فوری سروے کرا کے قبضہ مافیاز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ اس معاملے پر محکمہ جنگلات بہاولپور سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوسکا۔







