حیدرپورہ کے رہائشی آصف بھٹی کے 4سالہ بیٹےعبدالوہاب کو گلی سنجرانی نےمقامی آوارہ شخص عامرگوندل کی سہولت کاری کے ذریعےاغواکیا
لادی گینگ کے رکن گلی سنجرانی نے 6 کروڑ تاوان مانگا ، اغوا کاروں سے لواحقین کے دودن مذاکرات ،20لاکھ میںڈیل،پولیس مانیٹرنگ کرتی رہی
آصف بھٹی دوست کےہمراہ 20لاکھ لیکرپل قمبرتونسہ روانہ،پولیس ملازم ساتھ رہا،اغواکارمختلف سڑکوں پرپھراتے رہے،کچےمیں لےگئے
رقم لیکربچہ حوالے،ملتان،ڈیرہ،مظفرگڑھ پولیس آپریشن میں شریک،گلی سنجرانی گرفتار،سابق وزیراعلیٰ کے حلقہ انتخاب کے گینگ کی ملتان میں واردات خطرےکی گھنٹی
ملتان ( شعیب افتخار سے ) حیدر پورہ ملتان کے رہائشی آصف بھٹی نامی شخص کا 4 سالہ بیٹا عبدالوہاب 20 لاکھ روپے تاوان کے عوض لادی گینگ کے چنگل سے رہا ہوا اور اگلے روز ڈیرہ غازی خان اور ملتان پولیس نے علی الصبح چھاپہ مار کر اغوا برائے تاوان کے مرکزی ملزم گلی سنجرانی کو گرفتار کر لیا جبکہ تاوان کی مد میں دیا گیا 20 لاکھ روپیہ تاحال واپس نہ ہو سکا۔ گلی سنجرانی کو ملتان پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور ابتدائی تفتیش میں گلی سنجرانی نے حیدر پورہ ہی کے رہائشی ایک آوارہ شخص عامر گوندل کا نام بتایا ہے کہ 4 سالہ عبدالوہاب کے اغوا میں تمام تر سہولت کاری اسی عامر گوندل ہی نے کی تھی۔ اغوا برائے تاوان کی اس خوفناک واردات کے بعد یہ بات عیاں ہو گئی کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخابی حلقے کے بدنام زمانہ لادی گینگ کے جرائم کا دائرہ وسیع ہوتے ہوتے ملتان تک جا پہنچا ہے۔ عبدالوہاب کی رہائی کے عوض لادی گینگ کے رکن گلی سنجرانی نے مبینہ طور پر 6 کروڑ مانگا تھا جس پر اغوا کاروں سے مذاکرات شروع کر دیئے گئے اور دو دن مسلسل جاری رہنے والے اغوا کاروں اور مغوی کے ورثا کے مذاکرات کی پولیس مانیٹرنگ کرتی رہی۔ جمعہ 15 دسمبر کو 20 لاکھ روپے میں ڈیل طے ہو گئی اور مغوی بچے کا والد آصف بھٹی اپنے دوست نعیم کے ہمراہ 20 لاکھ روپے لے کر پل قمبر تونسہ روانہ ہو گیا۔ صبح 10 بجے وہ پل قمبرپہنچے تو انہیں مختلف مقامات پر لے جایا جاتا رہا۔ ان کے ساتھ ملتان پولیس کا ایک ملازم عرفان بھی تھا کیونکہ اغوا کاروں کی شرط یہ تھی کہ دو سے زیادہ افراد بچے کو لینے نہ آئیں۔ پل قمبر سے انہیں ایک سائیڈ روڈ پر آنے کا کہا گیا پھر انہیں مختلف سڑکوں پر پھرایا جاتا رہا اور موٹر سائیکل سوار گاڑی کی ریکی کرتے رہے پھر گاڑی کو کچے کے علاقے میں اتار دیا گیا اور ایک موٹر سائیکل سوار گاڑی کے قریب آیا تو اس نے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا کہ ایک شخص پیسے لے کر آ جائے اور دوسرا گاڑی کے پاس رہے جس پر بچے کا والد پیسے لے کر موٹر سائیکل سوار کے ساتھ بیٹھ گیا۔ دس منٹ موٹر سائیکل کے سفر کے بعد سامنے سے ایک اور موٹر سائیکل سوار بچے کو لے کر آیا۔ انہوں نے 20 لاکھ روپیہ وصول کر کے مغوی بچہ حوالے کیا اور موٹر سائیکل پر واپس جاتے ہوئے کہا کہ مڑ کر مت دیکھنا۔ پھر وہی موٹر سائیکل سوار
مغوی بچے اور اس کے والد کو انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ گاڑی کے قریب چھوڑ گیا۔ پولیس اس تمام صورتحال کو مانیٹر کرتی رہی اور علاقے کی مکمل ریکی مظفر گڑھ پولیس کے ذمے تھی جنہیں ڈاکو جانتے نہ تھے۔ مظفر گڑھ پولیس کے جوان موٹر سائیکلوں پر پھرتے رہے اور بچہ تاوان کے عوض برآمد ہونے کے بعد اگلی صبح 4 بجے مکمل معلومات کے ساتھ موبائل لوکیشن کے مطابق ریڈ کر کے گلی سنجرانی کو گرفتار کر کے ملتان پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ دوران تفتیش گلی سنجرانی نے انکشاف کیا کہ مغوی بچے بارے مکمل معلومات محلہ حیدر پورہ ہی کے عامر گوندل نے دی جس پر پولیس نے عامر گوندل کی تلاش میں چھاپے مارنے شروع کر دیئے ہیں جو کہ مفرور ہے۔







