’’قو م‘‘ کامیاب آئی جی پنجاب کے نوٹس پر خانیوال پولیس کا نشہ ٹوٹ گیا، ایس ایچ اوز کا ہاتھ ہولا، ’’ سیلز گرلز‘‘ انڈر گرائونڈ

’’قو م‘‘ کامیاب آئی جی پنجاب کے نوٹس پر خانیوال پولیس کا نشہ ٹوٹ گیا، ایس ایچ اوز کا ہاتھ ہولا، ’’ سیلز گرلز‘‘ انڈر گرائونڈ

مریم نوازکی منشیات سے پاک پنجاب مہم کو جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع میںکمائی کا ذریعہ بنانے کی خبر پر ڈاکٹر عثمان انور نے آر پی او ملتان سے رپورٹ طلب کرلی

اطلاع ملتے ہی خانیوال کے کاری گر ایس ایچ اوز نے گھروں میں منشیات رکھنے والی کبیر والا کی بدنام خواتین آسیہ اور نگینہ کو دھندا،موبائل بند،شہر چھوڑنے کا کہہ دیا

جنوبی پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی منشیات کیخلاف مہم کو سب سے زیادہ کمائی کا ذریعہ مظفرگڑھ پولیس نے بنا رکھا ، خانیوال و لودھراں دوسرے نمبر پر ہیں

ڈی پی اوخانیوال نے اپنےکارخاص عرفان اللہ کوبھی میانوالی سے بلوالیا، کبیر والا کے تھانیداروں مرزا رحمت اور ذیشان گل کی کھل کرکمائی ،ریڈر اسیر امام درپردہ شامل

ملتان(سٹاف رپورٹر)روزنامہ قوم میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے منشیات سے پاک پنجاب نامی مہم ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ شروع کئے جانے کو جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع کی پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنانے کے حوالے سے شائع شدہ خبر پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ملتان سہیل چوہدری سے رپورٹ طلب کرلی اور آئی جی پنجاب کے نوٹس لینے کی اطلاع پہنچتے ہی خانیوال پولیس کے کاری گر ایس ایچ اوز نے ہتھ ہولا کردیا جبکہ مختلف گھروں میں منشیات رکھنے والی کبیر والا کی بدنام خواتین آسیہ اور نگینہ کو فوری طور پر شہر چھوڑنے کا کہہ دیا گیا ہے اور سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ موبائل بند اور فی الحال کاروبار بند کردیں ایسا نہ ہو کہ نیا شکار ڈھونڈنے کے چکر میں خود شکار ہوجائیں۔ بتایا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی منشیات کیخلاف مہم کو سب سے زیادہ کمائی کا ذریعہ مظفرگڑھ پولیس نے بنا رکھا ہے اور خانیوال و لودھراں دوسرے نمبر پر ہیں۔ خانیوال کے ڈی پی او جوکہ اس سے قبل میانوالی میں بھی ڈی پی او رہ چکے ہیں انہوں نے چارج سنبھالنے کے 8دن بعد ہی میانوالی سے اپنے کار خاص عرفان اللہ کو بھی خانیوال بلالیا ہے اور تھانوں میں اس کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ آمدورفت کا سلسلہ شروع ہے وہ ڈی پی او خانیوال کے ’’ سفر شریک ‘‘ بنے ہوئے ہیں اور یہی سفری شرکت چند ہی دنوں میں عرفان اللہ کیلئے اچھی خاصی ’’ باعث برکت‘‘ بنی ہوئی ہے ۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ عرفان اللہ کیلئے میانوالی سے خانیوال آنا دبئی جانے کے مترادف ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ مظفرگڑھ چونکہ بلوچستان سے پنجاب آنے والے اہم ترین راستوں کا سنگم ہے لہٰذا منشیات وافر دستیاب ہے اس لئے ضلع مظفرگڑھ کے تھانوں میں مال مقدمے کے طور پر سیل شدہ چرس اور دیگر منشیات سے کئی کئی ملزمان بھگتائے جارہے ہیں ۔ماضی میں ایک کاری گر ایس ایچ او نے منوں کے حساب سے ہیروئن کا پکڑا جانا ظاہر کیا اور بعد میں ڈیل ہونے کے بعد چپس کے فرش کی رگڑائی کے بعد بننے والے سفید پائوڈر کے ٹکڑے بوریوں میں ڈال کر وزن پوراکرلیا ۔ مقدمہ عدالت میں تھا جب ڈیل ہوئی تو درخواست دی گئی کہ سارا مال مقدمہ چیک کرایا جائے کیونکہ نمونے جو بھیجے گئے ان میں اور مال مقدمہ میں زمین آسمان کا فرق ہے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تو پڑتال پر سارا مال مقدمہ چپس کا جما ہوا پائوڈر نکلا اور تمام ملزمان باعزت بری جبکہ ایس ایچ او نے اگلی واردات کیلئے ملحقہ ضلع میں ٹرانسفر کرالی۔معلوم ہوا ہے کہ چند روز قبل ڈی ایس پی حضرات کی بڑے پیمانے پر ٹرانسفرز میں کبیر والا کا ڈی ایس پی اعجاز بخاری بھی ایس ایچ او تلمبہ مرزا رحمت اور سپوت میانوالی عرفان کی کوششوں سے تبدیل ہوا کیونکہ وہ منشیات کی جعلی کارروائی کا مخالف تھا۔ تحصیل کبیر والا کے دو تھانیدار مرزا رحمت اور ذیشان گل نے کھاتے پیتے گھرانوں کے نوجوان بچوں کو وزیر اعلیٰ کی منشیات سے پاک پنجاب مہم کی آڑمیں اٹھائے، حوالات کے بجائے مختلف ڈیروں پر رکھنے اور ڈیل کی صورت میں گھر ورنہ جیل بھیجنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ اس گھنائونے دھندے میں اسیر امام نامی ریڈر بھی درپردہ شامل ہے۔ کبیر والا سرکل اور میاں چنوں سرکل کی حدود میں یہ دھندہ بھی جاری ہے کہ راتوں کو نوجوانوں کو منشیات میں اٹھایا جارہا ہے۔ تھراج برادری کی آپس میں دشمنی پر ایک پارٹی سے مبینہ طور پر ڈیل کرکے 22 سالہ نوجوان مبشر تھراج کو گھرسے گرفتار کیا گیا اور پھر رہائی کے عوض5 لاکھ مانگا۔ ڈی پی او خانیوال اسماعیل کھاڑک کھلی کچہری کیلئے تھانہ تلمبہ گئے جہاں ایس ایچ او کے کمرے میں میڈیا اور شہریوں نے شکایت کی کہ مبشر تھراج نامی نوجوان کو بے گناہ گرفتار کیا گیا ہے ۔ ڈی پی او نے ایس ایچ او مرزا رحمت سے سب کی موجودگی میں پوچھا کہ کتنے عرصہ سے گرفتار ہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ چار دن سے، ڈی پی او نے سوال کیا برآمدگی کیا ہوئی؟ ایس ایچ او نے کہا کہ فی الحال نہیں ہوئی کوشش جاری ہے ۔ ڈی پی او نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایس پی کو 2 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ اسی شام ایس ایچ او مرزا رحمت کا میانوالی کے ’’مہمان اداکار‘‘ عرفان اللہ سے رابطہ ہوگیا کیونکہ وہ بھی ڈی پی او کے ہمراہ انہی کی گاڑی میں تھانہ تلمبہ آیا تھا۔ پھر اسی شام مبشر تھراج نامی نوجوان سے 4کلو گرام چرس برآمد کرالی جاتی ہے کہ شہریوں کی شکایت پر ڈیل کے دروازے بند کردیئے گئے تھے ۔ اگلے روز وہی مبشر تھراج جو اس ہفتے نوکری کیلئے خلیجی ملک جارہاتھا خانیوال جیل روانہ کردیا گیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں