بہاولپور ( کرائم سیل)روزنامہ قوم میں بہاولپور میں مختلف شہروں سے آئے ہوئے، شناخت کو چھپا کر خواجہ سرا کے روپ میں جرائم پیشہ افراد کی بڑی تعداد میں رہائش، ان کی رجسٹریشن اور دیگر ڈیٹا پولیس کے ریکارڈ میں نہ ہونے کے بارے میں خبر کی اشاعت کے بعد دیگر تحقیقاتی ادارے تو حرکت میں آگئے اور خواجہ سراؤں کے روپ میں چھپے ہوئے جرائم پیشہ افراد کے بارے میں کوائف اکٹھا کرنا شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے رہائشی مکان مالکان کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا شروع کر دی، جبکہ بہاولپور پولیس کی بے حسی اور لاپروائی اس وقت سامنے آئی جب پولیس نے ان خواجہ سراؤں کا ریکارڈ اور ڈیٹا اکٹھا کرنا مشکل سمجھتے ہوئے اپنے وضاحتی بیان میں اس طبقے کو مظلوم ثابت کرنے کا بیان جاری کیا۔ جس پر شہریوں کے ساتھ ساتھ کئی پولیس ملازمین نے خواجہ سراؤں کے روپ میں جرائم پیشہ افراد کے پورے شہر میں پیسے اکٹھا کرنے اور نہ دینے والے شہریوں اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بنانے، نام نہاد خواجہ سراؤں کی جانب سے شہریوں کو بلیک میل کرنے کے لیے سٹی سرکل کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کروانے پر بہاولپور پولیس سے خواجہ سراؤں کے روپ میں چھپے ہوئے ان نام نہاد افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کر دیا۔جبکہ روزنامہ قوم میں خبر کی اشاعت کے بعد بہاولپور کے مختلف شہریوں نے خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی رہائشوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جس کی تحقیقات کی تو پتا چلا کہ حفیظ خان عرف لودھی،بسم اللہ کالونیجھمب موڑ کے پکھی واس جو مسلم کالونی کی آخری گلی میں رہائش پذیر ہیں ان کی بیٹھک میں جہاں پر آئس استعمال کی جاتی ہے۔ اسی بیٹھک کے سامنے،مسجد بلال کے سامنے، بلال بھٹی کے بھائی کے مکان میں منظم گینگ ہے۔ لقمان پولیس والے کے گھر کے ساتھ والی گلی کے آخر میں ملک برادری جو کہ لاہور رہتے ہیںکے مکانات کرائے پر لیکر خواجہ سرا رہائش پذیر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور مکان ساجد عرف سجو کے مکان میں، اظہر کے مکان میں، چوک پر شاہد والے بھانے کے قریب مکان میں خواجہ سراؤں کے روپ میں جو لوگ رہائش پذیر ہیں، ان کی جسامت دیکھی جائے تو وہ کسی صورت بھی خواجہ سرا نظر نہیں آتے۔ہلِ علاقہ نے روزنامہ قوم سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ جرائم پیشہ ہیں۔ جو مکانات انہوں نے کرائے پر لیے ہوئے ہیں ان میں یہ سارا دن آئس، شراب، چرس اور دیگر نشے کرتے ہیں، مجبور اور لاچار خواجہ سراؤں کی یہ سرپرستی کرتے ہیں ان کو بھیک مانگنے اور جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں، ان سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیںجبکہ پولیس کو ان کے بارے کوئی معلومات نہیں۔ بسم اللہ کالونی، مسلم کالونی اور نذیر آباد کالونی کے لوگ ان سے بہت پریشان ہیں۔ سارا دن یہ رہائشی لوگوں کو تنگ کرتے ہیں، جبکہ بہاولپور پولیس کو معلوم ہے کہ ان خواجہ سراؤں کی کمیونٹی کے احتجاج کے ڈر سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتی اور نہ ہی کرنا چاہتی ہے، کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ یہ لوگ احتجاج پر اتر آئیں گے تو پولیس کے لیے پریشانی کا باعث بنیں گے۔ اسی وجہ سے یہ لوگ سارا دن شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں اور عوام کو پریشان کر رہے ہیں۔ اب انتظار کرنا پڑے گا کہ تحقیقاتی ادارے ان کے خلاف معلومات اکٹھا کر کے کیا کارروائی کرتے ہیں۔
