قوم کی خبر پر ڈی پی او بہاولپور کا ایکشن، سلمیٰ جبیں کیس میں “خونی رشتوں” کا گھیرا تنگ

بہاولپور(کرائم سیل)روزنامہ قوم کی خبر پر ایکشن ،تھانہ ڈیرہ نواب کی حدود میں سلمیٰ جبیں قتل کیس پر نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او بہاولپور نے ایس پی انویسٹی گیشن کو سخت ہدایت جاری کی ہیں کہ ملزمان کی جلد گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور مقدمے کو حقائق کی بنیاد پر یکسو کیا جائے۔دوسری جانب روزنامہ قوم کی جانب سے مرکزی ملزم مقتولہ کے والد طالب حسین کی 18 دسمبر کو گرفتاری کی خبر کی مختلف ذرائع سے تصدیق ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق طالب حسین کو احمد پور شرقیہ سرکل میں کسی نامعلوم مقام پر گرفتار کر کے رکھا گیا ہے۔ باوثوق پولیس ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا ہے کہ سابق ڈی پی او نے ایک میٹنگ کے دوران ایس ایچ او تھانہ ڈیرہ نواب کو زبانی طور پر سی سی ڈی طرز کی کارروائی کا عندیہ بھی دیا تھا۔یاد رہے کہ موضع سکھیل کے رہائشی طالب حسین نے مبینہ طور پر اپنے بیٹوں اور بھائی مختیار حسین کے ساتھ مل کر اپنی پڑھی لکھی بیٹی سلمیٰ جبیں کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کیا۔ مقتولہ اپنی پسند سے والدین کی رضامندی کے ساتھ شادی کرنے والی تھی، تاہم باپ نے مبینہ طور پر دھوکے سے شادی سے ایک روز قبل بلا کر قتل کر کے لاش کھیتوں میں پھینک دی۔ علاقہ ذرائع کے مطابق افسوسناک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ شدید تشدد کے باوجود لڑکی ایک مرتبہ زندہ بچ گئی تھی مگر ملزمان نے اسے ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے دوبارہ تشدد کر کے قتل کیا اور قریبی فصلوں میں پھینک دیا۔واقعے کے بعد ملزمان کئی روز تک منظرِ عام سے غائب رہے۔ بعد ازاں طالب حسین نے ضمانت حاصل کی، تاہم 18 دسمبر کو پولیس نے اسے گرفتار کر کے منظر سے ہٹا دیا تھا۔ اب پولیس ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ طالب حسین اس وقت احمد پور شرقیہ سرکل کے ایک نامعلوم مقام میں پولیس حراست میں ہے۔ادھر مرکزی ملزم کا بھائی مختیار حسین عبوری ضمانت پر ہے، جس کی آج ضمانت کی پیشی ہے۔ ذرائع کے مطابق مختیار حسین مختلف ٹاؤٹس کو پیسے کھلا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کے پولیس کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں اور وہ مقدمے سے بے گناہ ہو جائے گا۔مگر ڈی پی او بہاولپور کی اس کیس میں ذاتی دلچسپی اور تمام تر معاملات نوٹس میں آنے کے بعد ملزمان کو کسی قسم کا کوئی ریلیف ملنا ممکن نظر نہیں آ رہا۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں، خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیموں، سول سوسائٹی، وکلا اور طلبہ تنظیموں نے نہ صرف ملوث ملزمان بلکہ اس گھناؤنے جرم کی ذہن سازی کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں