ڈاکٹر کالرو نے اپنی سیٹ بچانے کیلئےیونیورسٹی کے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے سی آرز اور جی آرز کوکل اپنے دفتر بلا لیا
تحریک کو مرحلہ وار شروع کرنے پھر لاہور ملتان روڈ کو بلاک کرنے کی تیاری،تعلیمی دنیا میں خودغرضی کی انوکھی مثال بن گئی


ملتان(سٹاف رپورٹر)روزنامہ ’’ قوم ‘‘ میں این ایف سی یونیورسٹی کے غیر قانونی اور ناجائزوائس چانسلر ڈاکٹر اختر علی ملک کالرو کہ جس کی پی ایچ ڈی کی ڈگری کا ریکارڈ نہ تو زکریا یونیورسٹی کے پاس ہے اور نہ ہی دیگر متعلقہ محکموں اور اداروں کے پاس ہے حالانکہ ڈاکٹر اختر علی کالرو زکریا یونیورسٹی ہی کے ملازم رہے ہیں اور قائد کے مطابق یونیورسٹی کے پاس ان کی تعلیمی استعداد کا ریکارڈ موجود ہونا ضروری ہے۔ روزنامہ ’’ قوم‘‘کی خبر جو کہ 30 مارچ کو شائع ہوئی کہ غیر قانونی اور ناجائز قابض وائس چانسلر نے طلبہ و طالبات کو ڈھال بنا کر وفاقی وزارت تعلیم کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے تاکہ وفاقی وزارت تعلیم کو بلیک میل کر کے اپنی زندگی کی آخری سانس تک وہ وائس چانسلر کی سیٹ پر براجمان رہ سکیں۔یونیورسٹی کے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے تمام CRیعنی طلبہ کا نمائندہ طالب علم اور GR اپنی طالبات کی نمائندہ طالبہ کی میٹنگ وائس چانسلر نے 2 اپریل کو اپنے دفتر میں طلب کی ہے تاکہ احتجاجی تحریک کو مرحلہ وار شروع کیا جا سکے اور پھر لاہور ملتان روڈ کو بلاک کیا جا سکے۔کوئی شخص اپنی ذات کیلئے اس حد تک جاسکتا ہے تعلیمی دنیا میں اس سے قبل ایسی مثال نہیں ملتی۔







