لین دین کی لڑائی میں بچی کو اغوا کرنے والے پارٹنر ، آن لائن بزنس دکھاوا، ہیکنگ اصل کاروبار
آزاد کشمیر کے علاقے میر پور میں بھی گروپ بینکوں کے ملازمین سے معلومات لیکر وارداتیں کر چکا
ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ کو نشاندہی پر وفاقی اداروں کی طرف سے تحقیقات شروع
ملتان(سٹاف رپورٹر) عید کے روز لودھراں کے النور ٹائون سے بد نام ہیکروں کی کسی مرنے والے شخص کے نکالے گئے 70 کروڑ روپوں کی تقسیم پر حافظ عمیر سرور کی بیٹی حورین کے اغوا کی حقیقی کہانی روزنامہ ’’ قوم ‘‘ میں اتوار کے روز شائع ہوئی تو لودھراں میں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وائرل ہوئی اور ذرائع کے مطابق اس پر وفاقی اداروں کی طرف سے تحقیقات بھی شروع ہو رہی ہیں کیونکہ اتوار کے روز یہ معاملہ روزنامہ ’’ قوم‘‘ کے پلیٹ فارم سے ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ کے نوٹس میں لایا جا چکا ہے۔ روزنامہ ’’ قوم‘‘ اپنے قارئین کو یہ آگاہی دے چکا ہے کہ آپس کی لین دین کی لڑائی میں بچی کو اغوا کرنے والے آپس میں پارٹنر ہیں اور انہوں نے بظاہر آن لائن بزنس شروع کررکھا ہے مگر حقیقت میں وہ کراچی ، آزاد کشمیر اور غیر ملکی اکائونٹس سے کروڑوں روپے ہیک کرکے نکال لیتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے علاقے میر پور میں بھی یہ گروپ اس قسم کی وارداتیں کر چکا ہے کیونکہ وہاں کے بہت سے لوگ برطانیہ سمیت بیرونی ممالک میں مقیم ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں معلومات بینکوں کے ملازمین سے بھی ملتی ہیں۔







