ملتان (زین العابدین سے)روزنامہ قوم کی جانب سے شائع ہونے والی فوڈ اتھارٹی ملتان کی کارکردگی پر تحقیقی خبر کے بعد محکمہ بالآخر حرکت میں آ گیا۔ خبر کے شائع ہوتے ہی فوڈ اتھارٹی نے رمضان المبارک سے قبل شہر بھر میں روزانہ کی بنیاد پر وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قوم کی نشاندہی نے ایک بار پھر عوامی مفاد میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، فوڈ اتھارٹی ملتان کی 8 ٹیمیں جو طویل عرصے سے محض کاغذوں میں متحرک دکھائی جا رہی تھیں اب باقاعدہ طور پر مارکیٹوں، ہوٹلوں، بیکریوں، اور گوشت و دودھ کی دکانوں پر انسپکشنز میں مصروف ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی پر متعدد وارننگز جاری کی گئیں جبکہ نمونوں کے لیبارٹری تجزیے کے لیے باقاعدہ ریکارڈ تیار کیا گیا ہے۔روزنامہ قوم کی خبر میں واضح کیا گیا تھا کہ محکمہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں کی کارکردگی کے حوالے سے نہ تو جرمانوں اور وارننگز کا کوئی اعدادوشمار عوام کے سامنے لایا جا رہا ہے اور نہ ہی انسپکشنز کا باضابطہ ریکارڈ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ادارے کے ترجمان یاسر عرفات نے بارہا استفسار کے باوجود تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ تاہم قوم کی خبر شائع ہونے کے بعد اچانک شہر میں فوڈ انسپکشن کی رفتار تیز ہو گئی ہے اورماہ رمضان میں روزانہ سینکڑوں انسپکشنز کیے جا رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے روزنامہ قوم کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا کی بروقت نشاندہی اور مسلسل آواز اٹھانے سے انتظامیہ اور متعلقہ ادارے متحرک ہوئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر میڈیا اپنی سماجی ذمہ داری اسی طرح نبھاتا رہا تو عوامی مسائل کے حل میں خاطر خواہ بہتری ممکن ہے۔ادھر شہریوں نے فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ کارروائیوں کو صرف رمضان تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سال بھر اسی تسلسل سے جاری رکھا جائے تاکہ ناقص، غیر معیاری اور مضر صحت کھانوں کے خلاف حقیقی اور پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ملتان میں جاری یہ تازہ مہم اس بات کی علامت ہے کہ جب صحافت ذمہ داری سے کی جائے تو وہ صرف خبر نہیں، عمل کا آغاز بن جاتی ہے۔







