“قوم” کامیاب، جامعات کے معاملات، فیصلوں پر تحقیقات شروع، اسلامیہ انتظامیہ کے کٹہرے میں

ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی جاندار رپورٹنگ اور مسلسل فالو اپ نے آخر کار ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور حکومت پنجاب کو سنجیدگی سے یونیورسٹیوں میں جاری یونیورسٹیوں کی خود مختاری کی آڑ میں ہونے والی ٹھیکے داری کا سنجیدگی سے نوٹس لے لیا ہے اور متعدد یونیورسٹیوں کے انتظامی معاملات اور فیصلوں پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں بھرتیوں کی تحقیقات کے معاملے کے بعد ایک بھانڈا اس وقت بیچ چوراہے میں پھوٹ گیا جب پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہائر ایجوکیشن نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی انتہائی بگڑتی ہوئی مالی و انتظامی صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سابق و موجودہ انتظامیہ کو کٹہرے میں لا کھڑا کر دیا ۔ سٹینڈنگ کمیٹی نے اگلی پیشی پر سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب اور سابقہ خزانچی و پروفیسر ڈاکٹر محمد ابو بکر کو طلب کر لیا۔ کمیٹی اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ماضی میں یونیورسٹی میں متعدد عمارتوں کی منظوری بغیر کسی ٹھوس مالی منصوبہ بندی کے دے دی گئی جس کے باعث ادارہ اربوں روپے کے مالی بوجھ تلے دب گیا اور تنخواہوں کی ادائیگی تک خطرے میں پڑ گئی۔ اجلاس کے دوران موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران، خزانچی عبدالستار ظہوری، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر اور ڈپٹی سیکرٹری صائمہ دھمیال کو طلب کر کے کڑی بازپرس کی گئی۔ کمیٹی اراکین نے واضح کیا کہ یونیورسٹی میں اختیارات کا ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیاں ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ سامنے آیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے تقریباً 6.7 ارب روپے کے مالی بوجھ کے باوجود اپنے ہی محدود وسائل سے نئی عمارتوں کی تعمیر شروع کر دی، بغیر اس کے کہ کسی فورم سینڈیکیٹ، ہائر ایجوکیشن کمیشن یا صوبائی محکمہ سے باقاعدہ مالی منظوری لی جاتی۔ کمیٹی نے اس عمل کو’’انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور مجرمانہ غفلت‘‘قرار دیا۔ اجلاس میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب، جو اس وقت الکوثر یونیورسٹی کراچی میں تعینات ہیں، کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح سابق خزانچی اور مینجمنٹ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوبکر کو بھی وضاحت کے لیے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے اس امر پر بھی سخت تشویش ظاہر کی کہ یونیورسٹی میں نئی بھرتیوں اور پروگرامز کے آغاز کے وقت ان کے مالی اثرات کا کوئی سنجیدہ جائزہ نہیں لیا گیا۔ اراکین نے سوال اٹھایا کہ جب نئی اسامیوں اور پروگرامز کی منظوری دی جا رہی تھی تو یہ نہیں سوچا گیا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کیے جائیں گے۔ حیران کن طور پر نہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور نہ ہی متعلقہ صوبائی حکام نے اس بے قابو توسیع کو روکنے کی کوشش کی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد کامران نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ماضی میں کیے گئے فیصلوں نے یونیورسٹی کو شدید مالی بحران میں دھکیل دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ پہلے ہی خسارے کا شکار تھا اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے اس بوجھ کو کئی گنا بڑھا دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ انتظامیہ نے اخراجات میں کمی، سہولیات کی بندش اور دیگر سخت اقدامات کے ذریعے صورتحال کو کسی حد تک قابو میں لا ئی ہے اور اب تنخواہوں کی ادائیگی نسبتاً بہتر ہو چکی ہے۔اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی میں سینکڑوں پروگرامز اور ہزاروں طلبہ کے بوجھ کے باوجود انتظامی فیصلے’’اندازوں‘‘ پر کیے جاتے رہے، جسے کمیٹی نے ایک’’ٹائٹینک طرز کی مینجمنٹ ناکامی‘‘قرار دیا۔ اراکین نے واضح کیا کہ آئندہ اجلاس میں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کے لیے ٹھوس سفارشات تیار کی جائیں گی۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو معاملہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ آئندہ اجلاس میں سابق وائس چانسلر اور دیگر متعلقہ افسران سے تفصیلی جواب طلبی کی جائے گی جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتساب کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں