صدرِ پاکستان کی جانب سے 22 اگست کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا قیام ایک نہایت اہم آئینی عمل کا آغاز ہے، جس کا مقصد وفاق اور صوبوں کے درمیان، اور صوبوں کے آپس میں، وسائل کی تقسیم کے اصول طے کرنا ہے۔ 29 اگست کو کمیشن کے پہلے اجلاس کے ساتھ یہ سوال پھر سے اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا ہم پرانے اور غیرمتوازن فارمولے سے آگے بڑھ کر پاکستان کے موجودہ معاشی، ماحولیاتی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک منصفانہ، حقیقت پسندانہ اور پائیدار مالیاتی ڈھانچے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔
موجودہ این ایف سی ایوارڈ فارمولے میں 82 فیصد وزن صرف آبادی کے پیمانے کو دیا گیا ہے، جب کہ غربت اور پسماندگی کو صرف 10.3 فیصد، محصولات کی وصولی کو 5 فیصد، اور آبادی کی گنجانی (inverse population density) کو صرف 2.7 فیصد حصہ دیا گیا ہے۔ اس تقسیم نے وقت کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق کی ترجمانی کرنے کے بجائے صوبوں میں وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ان صوبوں میں جو جغرافیائی لحاظ سے پسماندہ ہیں یا ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ، مزمل اسلم، نے بجا طور پر اس مسئلے کی جانب اشارہ کیا ہے کہ صرف آبادی کو بنیاد بنا کر وسائل کی تقسیم ایک غیرمتوازن سوچ ہے، خاص طور پر اس وقت جب موسمیاتی تبدیلی نے زرعی نظام کو تباہ، لاکھوں افراد کو بے گھر، اور ماحولیاتی وسائل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ غربت، تعلیم، صحت، جنگلات کے رقبے اور ماحولیاتی اثرات جیسے پیمانوں کو نئے این ایف سی ایوارڈ میں نمایاں اہمیت دی جائے — ایک مطالبہ جو نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کے تسلسل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
پرانے فارمولے کی سب سے خطرناک خامی یہ ہے کہ اس نے صوبوں کو ایک ایسا منفی محرک (perverse incentive) فراہم کیا ہے، جس کے تحت آبادی پر کنٹرول کی بجائے آبادی میں اضافہ ہی وسائل کے حصول کا ذریعہ بن گیا ہے۔ جب وسائل کی تقسیم کا دار و مدار آبادی پر ہو تو صوبے کیوں کر آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کریں گے؟ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آبادی کا بے قابو بڑھنا، معیشت پر بوجھ، ماحولیاتی تباہی، اور صحت و تعلیم جیسے سماجی شعبوں میں بدترین دباؤ کا باعث بنا ہے۔
اس کے علاوہ، آبادی کا اثر صرف این ایف سی ایوارڈ تک محدود نہیں بلکہ پارلیمنٹ میں نشستوں کی تقسیم، سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم، اور سرکاری اداروں میں داخلوں کے نظام تک پھیلا ہوا ہے۔ یوں یہ صرف مالیاتی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت حکمرانی کا مسئلہ بن چکا ہے، جس سے ہر سطح پر ناانصافی اور عدم توازن پیدا ہوا ہے۔
مزید یہ کہ پاکستان میں حالیہ مردم شماریوں پر بھی سنگین اعتراضات سامنے آ چکے ہیں، خاص طور پر سندھ اور کراچی کے حوالے سے، جہاں بارہا یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہاں کی آبادی کو جان بوجھ کر کم گنا گیا ہے، جبکہ بعض دیگر علاقوں، خاص طور پر پنجاب میں، آبادی کو مبینہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ جب مردم شماری جیسے بنیادی اعداد و شمار ہی مشکوک ہوں، تو اس بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا نظام نہ صرف غیرشفاف بنتا ہے بلکہ وفاق کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
معروف ماہر معیشت، ڈاکٹر اشفاق حسن خان، کی تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ مردم شماری کے اعداد و شمار میں جان بوجھ کر مبالغہ آرائی کی جاتی ہے تاکہ آبادی بڑھا کر وسائل حاصل کیے جا سکیں۔ ایسے میں ہر ضلع کو یہ ترغیب حاصل ہے کہ وہ اپنی آبادی کو زیادہ ظاہر کرے تاکہ زیادہ فنڈز حاصل کیے جا سکیں۔ اس رجحان نے نہ صرف ملک میں آبادی کے توازن کو بگاڑا ہے بلکہ حکمرانی کے اصولوں کو بھی پامال کیا ہے۔
لہٰذا، وقت آ گیا ہے کہ آبادی کے غیرمعمولی وزن کو نئے این ایف سی ایوارڈ فارمولے میں کم کیا جائے اور اس کی جگہ ایسے عوامل کو اہمیت دی جائے جو پائیدار ترقی کی ضمانت دیں۔ ان میں غربت کا تناسب، تعلیم و صحت کے اشاریے، محصولات کی وصولی کی کارکردگی، جنگلات کی حفاظت، ماحولیاتی اثرات، اور آبادی پر کنٹرول کی کوششیں شامل ہوں۔ ان پہلوؤں کو شامل کرنے سے نہ صرف حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل تقسیم کیے جا سکیں گے، بلکہ ان صوبوں کو انعام دیا جا سکے گا جو انسانی ترقی، ماحولیاتی تحفظ، اور مالیاتی نظم و ضبط پر کام کر رہے ہیں۔
اس نئے فریم ورک کی تشکیل نہ صرف ایک معاشی ضرورت ہے بلکہ یہ وفاقی ڈھانچے کے بقا کے لیے بھی ضروری ہے۔ جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی، صوبائی احساسِ محرومی بڑھے گا، جو قومی یکجہتی کو کمزور کرے گا۔ ایک ایسا نظام جس میں صرف “زیادہ آبادی = زیادہ وسائل” کا فارمولا لاگو ہو، وہ نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ قومی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔
اب اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ 11واں این ایف سی ایوارڈ ماضی کی روش سے ہٹ کر ایک نئی اور دور اندیش حکمت عملی اپنائے۔ ایک ایسی حکمت عملی جو صوبوں کو محض آبادی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ کارکردگی، شفافیت، انسانی ترقی، اور ماحولیاتی تحفظ کی بنیاد پر وسائل دے۔ یہی حقیقی معنوں میں مالیاتی وفاقیت (fiscal federalism) کی روح ہے، جو نہ صرف وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ممکن بنائے گی، بلکہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط تر بھی کرے گی۔
موجودہ حالات میں، جب ملک معاشی دباؤ، ماحولیاتی بحران اور آبادی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، ایک پرانے اور متنازعہ فارمولا کو برقرار رکھنا صرف ایک کمزوری ہی نہیں بلکہ ایک قومی جرم کے مترادف ہوگا۔ اس لیے آنے والے این ایف سی ایوارڈ اجلاس صرف اعداد و شمار کی مشق نہ ہوں، بلکہ ایک سنجیدہ، اصولی اور اصلاحی پیش رفت کا آغاز ہوں — وہ آغاز جس کی بدولت پاکستان ایک متوازن، شفاف اور پائیدار وفاقی ریاست بن سکے۔
یقیناً، قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کی اصلاح صرف وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ اگر پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو واقعی جمہوری، شفاف اور منصفانہ بنیادوں پر استوار کرنا ہے تو این ایف سی کے دائرے کو ضلعی سطح تک وسعت دینا اب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا اصول صرف صوبوں کے درمیان لاگو نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر صوبے کے اندر موجود علاقائی ناہمواریوں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، تاکہ معاشی و سماجی ترقی کا عمل نیچے تک منتقل ہو اور تمام اضلاع ترقی کی دوڑ میں برابری کی بنیاد پر شریک ہو سکیں۔
آج صورتحال یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے بعد جو رقوم صوبوں کو منتقل ہوتی ہیں، ان کی اندرونی تقسیم — یعنی صوبائی این ایف سی ایوارڈ — میں اکثر و بیشتر صرف آبادی کو ہی بنیاد بنایا جاتا ہے، جس سے وہی لامحدود عدم توازن اور ناانصافی پیدا ہوتی ہے جو وفاقی سطح پر تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔ اس طرزِ تقسیم کا نتیجہ یہ ہے کہ صوبوں کے اندر پسماندہ، دیہی، یا ماحولیاتی بحران سے دوچار اضلاع مسلسل محرومی کا شکار رہتے ہیں، اور شہری یا زیادہ آبادی والے علاقے زیادہ حصہ سمیٹ لیتے ہیں۔
لہٰذا وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبائی فنانس کمیشنز کو فعال کریں، اور ان کی تشکیل ایسے فارمولے پر کریں جس میں صرف آبادی نہیں، بلکہ ماحولیاتی اثرات، زرعی رقبہ، غربت کی شرح، تعلیم و صحت کے اشاریے، جنگلات کا رقبہ، موسمیاتی خطرات، اور محصولات کی وصولی کی کارکردگی کو بھی مساوی یا غالب اہمیت دی جائے۔
یہ اصول ہر صوبے پر لاگو ہوتا ہے، لیکن پنجاب کے تناظر میں اس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ پنجاب رقبے، آبادی، اور وسائل کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن اس کے اندر بھی شدید علاقائی تفاوت موجود ہے۔ جنوبی پنجاب یا سرائیکی وسیب تاریخی طور پر انتظامی، مالیاتی، تعلیمی اور صحت کے شعبوں میں پسماندگی کا شکار رہا ہے، جب کہ وسائل کی اکثریتی تقسیم وسطی اور شمالی پنجاب کو حاصل رہی ہے۔
ایسے میں ضروری ہے کہ پنجاب حکومت این ایف سی ایوارڈ سے حاصل ہونے والے وسائل کو دو واضح حصوں میں تقسیم کرے — ایک وسطی و شمالی پنجاب کے لیے اور دوسرا جنوبی پنجاب یا سرائیکی وسیب کے لیے — اور اس تقسیم میں صرف آبادی ہی نہیں بلکہ علاقے کی محرومیوں، غربت کے اشاریوں، تعلیمی پسماندگی، زرعی انحصار، ماحولیاتی تباہی، سیلابی خطرات، جنگلات کے تحفظ، اور مقامی وسائل پر انحصار جیسے عناصر کو بھی مرکزی حیثیت دی جائے۔مثلاً، جنوبی پنجاب میں شرحِ خواندگی آج بھی صوبے کے دیگر علاقوں سے کم ہے، سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت ابتر ہے، پانی کی فراہمی، نکاسی و صفائی کے نظام ناکارہ ہیں، جب کہ سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہر سال لاکھوں افراد کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ان عوامل کو نظرانداز کر کے اگر صرف آبادی کی بنیاد پر وسائل تقسیم کیے جائیں تو نہ صرف ناانصافی جنم لیتی ہے بلکہ عوام کے ریاست پر اعتماد کو بھی شدید دھچکا لگتا ہے۔
اسی طرح، ماحولیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو جن اضلاع میں جنگلات موجود ہیں، یا جو موسمیاتی خطرات جیسے کہ سیلاب، شدید گرمی یا پانی کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، وہاں کے عوام کی فلاح کے لیے اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔ ان علاقوں کو — خواہ وہ خیبرپختونخوا کے پہاڑی اضلاع ہوں، بلوچستان کے خشک علاقے، سندھ کا تھر ہو، یا پنجاب کا جنوبی علاقہ — خصوصی مالیاتی تحفظ دیا جانا وقت کا تقاضا ہے۔
اگر ہم واقعی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اصول کو اختیار کرنا چاہتے ہیں، تو وفاق اور صوبوں دونوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ہر علاقے کی ضروریات یکساں نہیں ہوتیں۔ مساوات کا مطلب ہمیشہ برابری نہیں ہوتا — بعض اوقات زیادہ ضرورت مند کو زیادہ دینا ہی انصاف ہوتا ہے۔
یہ تجویز کہ NFC ایوارڈ کا دائرہ ضلعی سطح تک وسیع کیا جائے اور ہر صوبہ اپنے ضلع وار “Mini-NFC مرتب کرے، دراصل مالیاتی انصاف کے اسی اصول کی توسیع ہے۔ جب تک یہ عمل نیچے تک نہیں پہنچتا، وسائل کی تقسیم کے موجودہ ماڈل کو “وفاقیت” کہنا ایک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔
لہٰذا اب وقت آ چکا ہے کہ نہ صرف وفاق، بلکہ تمام صوبائی حکومتیں بھی اپنی مالیاتی پالیسیاں از سر نو ترتیب دیں، صوبائی این ایف سی ایوارڈز کو فعال، شفاف اور قابلِ احتساب بنائیں، اور اس میں وہ تمام پیمانے شامل کریں جو ترقی، فلاح، اور ماحولیاتی تحفظ سے براہِ راست جُڑے ہوئے ہیں۔
اگر یہ نکتہ نظر اپنایا جائے، تو پاکستان نہ صرف ایک متوازن وفاقی ریاست بن سکتا ہے، بلکہ ہر ضلع، ہر شہری، اور ہر خطہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی پا سکتا ہے — وہ ترقی جو آبادی کے ہجوم پر نہیں، انسانی فلاح، ماحول کے تحفظ، اور پائیدار معاشی نظم پر مبنی ہو۔
