قومی فیصلے بھی آئی ایم ایف کی منظوری کے محتاج؟

پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر بڑا معاشی فیصلہ قومی مفاد کے بجائے قرض دہندگان کی شرائط کے تابع نظر آتا ہے۔ تازہ خبر کہ ایف بی آر رواں مالی سال کے ٹیکس ہدف میں 50 سے 100 ارب روپے تک کمی کے لیے آئی ایم ایف سے اجازت مانگنے جا رہا ہے، اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ قرضوں کے بوجھ نے ہماری معاشی خودمختاری کو کس قدر محدود کر دیا ہے۔ ایک خودمختار ریاست کے لیے یہ صورتحال لمحۂ فکریہ ہے کہ اپنے ہی بجٹ اہداف میں معمولی ردوبدل کے لیے بھی عالمی مالیاتی ادارے کی منظوری درکار ہو۔
حکومت نے ابتدا میں 14 ہزار 131 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا تھا، جسے بعد ازاں آئی ایم ایف معاہدے کے تحت 13 ہزار 979 ارب روپے کر دیا گیا۔ اب ایف بی آر کی کارکردگی اور معاشی سست روی کے باعث مزید کمی کی درخواست زیر غور ہے۔ جولائی سے جنوری تک 372 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام نہ تو معیشت کی حقیقی رفتار کے مطابق ہے اور نہ ہی عوام کی برداشت کے مطابق۔ مگر اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہدف کم ہو یا زیادہ، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایک آزاد ملک کو اپنے مالی اہداف طے کرنے کے لیے بھی بیرونی منظوری کی ضرورت ہونی چاہیے؟گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان مسلسل آئی ایم ایف پروگرامز کا حصہ رہا ہے۔ ہر پروگرام کے ساتھ سخت شرائط، ٹیکسوں میں اضافہ، سبسڈیز میں کمی اور سرکاری اخراجات پر کنٹرول جیسے اقدامات شامل ہوتے ہیں۔ بظاہر یہ اصلاحات مالی نظم و ضبط کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں، مگر حقیقت میں ان کا سب سے بڑا بوجھ عام عوام پر پڑتا ہے۔ مہنگائی، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور نئے ٹیکسوں کی بھرمار نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اب جب حکومت نے وزیراعظم کی ہدایت پر منی بجٹ نہ لانے اور نئے ٹیکس نہ لگانے کا عندیہ دیا ہے، تو یہ بھی دراصل آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی ایک حکمت عملی دکھائی دیتی ہے، نہ کہ مکمل طور پر عوامی ریلیف کا فیصلہ۔
قرضوں کے بڑھتے بوجھ نے پاکستان کی معاشی پالیسی سازی کو محدود کر دیا ہے۔ جب بجٹ سازی سے لے کر ٹیکس ہدف تک ہر معاملہ آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد طے ہو، تو پھر پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوامی نمائندگی کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔ پارلیمنٹ نے جس ٹیکس ہدف کی منظوری دی، وہ اب تک باضابطہ طور پر نظرثانی کے بعد دوبارہ منظور نہیں کیا گیا، لیکن اس کے باوجود معاہدے کی پاسداری کی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عملی طور پر معاشی پالیسیوں کا مرکز اسلام آباد نہیں بلکہ واشنگٹن میں موجود مالیاتی ادارے بنتے جا رہے ہیں۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کے پاس آمدن بڑھانے کے محدود ذرائع ہیں: یا تو ٹیکس بڑھائے جائیں یا مزید قرض لیا جائے۔ دونوں صورتوں میں بوجھ عوام ہی پر پڑتا ہے۔ ٹیکس نظام پہلے ہی پیچیدہ اور غیر منصفانہ ہے جہاں تنخواہ دار طبقہ اور باقاعدہ ٹیکس دہندگان زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں جبکہ بڑے شعبے بدستور ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ اس کے باوجود جب ہدف پورا نہیں ہوتا تو حکومت آئی ایم ایف کے سامنے مزید مہلت یا نرمی کی درخواست کرتی ہے، جو ایک مستقل انحصار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جولائی سے جنوری کے دوران 7 ہزار 147 ارب روپے کی وصولی کے باوجود باقی مہینوں میں مزید 2 ہزار 765 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جو معاشی سست روی کے ماحول میں ایک مشکل ہدف دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ ہدف پورا نہ ہو سکا تو خدشہ ہے کہ آئندہ بجٹ میں مزید سخت اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔ یوں ایک شیطانی چکر قائم ہو چکا ہے: قرض لینے کے لیے شرائط ماننا، شرائط پوری کرنے کے لیے ٹیکس بڑھانا، اور ٹیکسوں کے بوجھ سے معیشت کی رفتار مزید سست ہونا۔
قومی خودمختاری کا تقاضا ہے کہ پاکستان اپنی معاشی پالیسیاں اپنے حالات کے مطابق تشکیل دے، نہ کہ بیرونی اداروں کی ہدایات پر۔ اس کے لیے سب سے پہلے ٹیکس نظام کی بنیادی اصلاح، غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی اور پیداواری شعبوں کے فروغ کی ضرورت ہے۔ اگر معیشت کا حجم بڑھے گا، صنعت و تجارت کو سہولت ملے گی اور ٹیکس نیٹ منصفانہ طور پر وسیع ہوگا تو نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ بیرونی قرضوں پر انحصار بھی کم کیا جا سکے گا۔بدقسمتی سے ہماری سیاسی و معاشی قیادت نے اکثر قلیل مدتی استحکام کو طویل مدتی خودمختاری پر ترجیح دی ہے۔ وقتی ریلیف کے لیے قرض لے کر معیشت کو سہارا تو دیا جاتا ہے، مگر اس کے بدلے میں پالیسی سازی کی آزادی محدود ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عوامی مفاد کے فیصلے—چاہے وہ ٹیکس ہدف میں کمی ہو یا سبسڈی کا معاملہ—بھی آئی ایم ایف سے پوچھ کر کرنے پڑتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک آزاد اور خوددار قوم کے شایانِ شان نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ایک جامع معاشی حکمت عملی اپنائے جس کا محور خود انحصاری، کفایت شعاری اور شفاف مالی نظم و ضبط ہو۔ جب تک ہم قرضوں کے سہارے معیشت چلانے کی پالیسی ترک نہیں کریں گے، تب تک قومی خودمختاری محض ایک نعرہ ہی رہے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں وقتی سہولت چاہیے یا مستقل معاشی آزادی؛ کیونکہ قرض کی زنجیر میں جکڑی معیشت کبھی مکمل خودمختار نہیں ہو سکتی۔

میت منتقلی کی مفت سروس،انسان دوست اقدام، دکھوں میں کمی

پنجاب حکومت کی جانب سے ہسپتال سے میت کو گھر منتقل کرنے کے لیے مفت ایمبولینس سروس کی منظوری ایک ایسا مثبت اور انسان دوست اقدام ہے جو بلاشبہ غریب عوام کے دکھوں میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری اور ہر تحصیل میں کم از کم ایک سرکاری وہیکل کی فراہمی کا فیصلہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت نے معاشرے کے ایک انتہائی حساس مگر نظرانداز شدہ مسئلے کو سنجیدگی سے محسوس کیا ہے۔ یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ انسانی وقار کے تحفظ کا بھی عزم ہے۔
ہمارے معاشرے میں غریب طبقہ پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری اور علاج معالجے کے اخراجات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں جب کسی گھر میں موت واقع ہو جائے تو لواحقین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ میت کو ہسپتال سے گھر منتقل کرنے کا ہوتا ہے۔ نجی ایمبولینس سروسز کے بھاری کرائے اکثر غریب خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہوتے ہیں، جس کے باعث کئی بار وہ شدید ذہنی اذیت سے گزرتے ہیں۔ بعض اوقات تو حالات یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ کفن دفن کے اخراجات پورے کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ریاست کا یہ قدم واقعی قابل تحسین ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں شہریوں کا سہارا بننے جا رہی ہے۔
اجلاس میں پرائیویٹ ایمبولینس سروسز کو ریگولائز کرنے اور ان کے نرخ مقرر کرنے کی تجویز بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس سے نہ صرف عوام کا استحصال کم ہوگا بلکہ ایمبولینس سروس کے شعبے میں شفافیت اور نظم و ضبط بھی قائم ہوگا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نجی ایمبولینس مالکان ایمرجنسی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر من مانے کرائے وصول کرتے ہیں، جس سے غریب اور متوسط طبقہ مزید مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ اگر حکومت اس شعبے کو باقاعدہ ضابطوں کے تحت لے آتی ہے تو یہ قدم عوامی ریلیف کے لیے انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ہر تحصیل میں کم از کم ایک مفت وین کی فراہمی اور 1122 پر کال کر کے یا ہسپتال کاؤنٹر سے یہ سہولت حاصل کرنے کی آسانی بھی قابلِ ستائش ہے۔ اس سے نہ صرف دیہی اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو براہِ راست فائدہ ہوگا بلکہ شہریوں کو فوری اور باوقار سہولت میسر آئے گی۔ مزید یہ کہ میت کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کی مفت سہولت دینا ایک بڑا ریلیف ہے، کیونکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے یہ خرچہ بعض اوقات ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔
اس سروس کی سمارٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے مانیٹرنگ کا فیصلہ بھی اہم ہے، جس سے شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ اگر اس نظام کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ ریاست کی اصل ذمہ داری صرف زندہ افراد کی فلاح تک محدود نہیں بلکہ مرنے والوں کے وقار کا تحفظ بھی اسی کا فرض ہے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور مجبور شہریوں کے دکھ درد میں شریک ہو۔ میت منتقلی کی مفت سروس اسی احساسِ ذمہ داری کا عملی اظہار ہے۔
تاہم اس اقدام کی کامیابی کا انحصار اس کے مؤثر نفاذ پر ہے۔ اگر گاڑیوں کی دستیابی، عملے کی تربیت اور بروقت رسپانس کو یقینی بنایا گیا تو یہ منصوبہ واقعی غریب عوام کے لیے رحمت ثابت ہوگا۔ بصورت دیگر یہ محض ایک کاغذی اعلان بن کر رہ جائے گا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ اقدام ایک مثبت اور انسان دوست پالیسی کی علامت ہے۔ ایسے فیصلے نہ صرف عوامی مشکلات میں کمی لاتے ہیں بلکہ ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومت اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر نافذ کرے گی تاکہ کوئی بھی غریب خاندان اپنے پیاروں کی آخری رسومات کے مرحلے پر مالی مجبوری کے باعث مزید اذیت کا شکار نہ ہو۔

کمزور پاور ٹرانسمیشن نظام،عوام مہنگی بجلی کا بوجھ کب تک اٹھائیں گے؟

پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بنتا جا رہا ہے، اور اب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی تازہ رپورٹ نے اس تلخ حقیقت پر مہر ثبت کر دی ہے کہ مہنگی بجلی کی ایک بڑی وجہ ملک کا کمزور پاور ٹرانسمیشن نظام ہے۔ اوورلوڈ گرڈ اسٹیشنز، تاخیر کا شکار منصوبے اور اداروں کے درمیان ناقص رابطہ کاری نہ صرف توانائی کے نظام کو غیر مؤثر بنا رہے ہیں بلکہ اس کا براہِ راست خمیازہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق قومی گرڈ کی کمزوریاں اکنامک میرٹ آرڈر کے اصول کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس اصول کے تحت پہلے سستی بجلی کو نظام میں شامل کیا جانا چاہیے، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ سستی بجلی دستیاب ہونے کے باوجود ٹرانسمیشن کی رکاوٹوں کے باعث مہنگے پاور پلانٹس چلانا پڑتے ہیں، جس کے نتیجے میں فی یونٹ لاگت بڑھ جاتی ہے۔ یہ اضافی لاگت بجلی کے بلوں میں شامل ہو کر براہِ راست عوام پر منتقل ہو جاتی ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے طوفان میں گھرے ہوئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی بدانتظامی دہائیوں پر محیط ہے۔ گرڈ اسٹیشنز اور ٹرانسفارمرز اپنی گنجائش کے 80 فیصد سے زائد بوجھ پر چل رہے ہیں، جس سے وولٹیج میں اتار چڑھاؤ، برقی آلات کے جلنے اور بریک ڈاؤن کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان متوسط اور غریب طبقے کو ہوتا ہے، جو مہنگی بجلی کے ساتھ ساتھ خراب وولٹیج کے باعث اپنے گھریلو سامان کے نقصان کا بوجھ بھی برداشت کرتے ہیں۔
صنعتی شعبہ بھی اس بحران سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ مہنگی بجلی کے باعث پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے، جس سے مقامی صنعتوں کی مسابقت کمزور پڑ رہی ہے۔ نتیجتاً برآمدات متاثر ہوتی ہیں، کارخانے بند ہوتے ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں بجلی کے نظام کی کمزوریاں صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر معاشی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
رپورٹ میں کے الیکٹرک اور این ٹی ڈی سی کے درمیان کمزور روابط کو بھی ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ اگر سستی قومی بجلی مؤثر طریقے سے کراچی اور دیگر علاقوں تک پہنچائی جا سکے تو صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے، مگر ناقص انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی عدم ہم آہنگی اس عمل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام نہ صرف مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہیں بلکہ سستی بجلی کی دستیابی کے باوجود اس سے محروم بھی رہتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر اس نااہلی کا بوجھ عوام ہی کیوں اٹھائیں؟ جب بجلی کے نظام میں منصوبہ بندی کی کمی، تاخیر اور ناقص انتظامی فیصلے کیے جاتے ہیں تو اس کی قیمت عام صارف سے وصول کی جاتی ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی معاشی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹرانسمیشن نظام کو جدید خطوط پر استوار کریں، گرڈ اسٹیشنز کی استعداد بڑھائیں اور منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو گا، جس سے مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، شفاف منصوبہ بندی اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سستی بجلی عوام تک پہنچ سکے۔ بصورتِ دیگر کمزور ٹرانسمیشن نظام کی سزا عوام کو مہنگے بلوں، لوڈشیڈنگ اور معاشی بدحالی کی صورت میں مسلسل بھگتنا پڑے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں