پاکستانی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ کی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ بڑھتا ہوا مالی خسارہ، غیر پائیدار قرضہ اور فرسودہ ٹیکس نظام نہ صرف معاشی بحران کو گہرا کر رہے ہیں بلکہ عوام کی زندگی کو بھی مسلسل مشکل بناتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی کا طوفان عام آدمی کی قوتِ خرید کو نگل رہا ہے تو دوسری جانب قرضوں اور ٹیکسوں کا بوجھ قومی معیشت کو جکڑتا چلا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کا کڑوا سچ بن چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک کا مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ مالی خسارہ 6 فیصد کی بلند سطح پر ہے۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ حکومتی آمدن کا بڑا حصہ سودی ادائیگیوں کی نذر ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ خالص سودی ادائیگیاں ٹیکس آمدن سے بھی بڑھ چکی ہیں، جو کسی بھی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس صورتحال نے ملک کو بار بار عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں وقتی ریلیف تو مل جاتا ہے مگر بنیادی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کا ڈھانچہ کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ٹیکس وصولیوں کا نظام محدود اور غیر منصفانہ ہے، جس کا بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار طبقے اور متوسط شہریوں پر ڈالا جاتا ہے، جبکہ بڑے سرمایہ دار اور طاقتور طبقات مختلف چھوٹ اور استثنیٰ کے ذریعے اس بوجھ سے بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکسوں میں مسلسل اضافے کے باوجود حکومتی آمدن مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پاتی اور خسارہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔
معاشی ماہرین واضح طور پر نشاندہی کر رہے ہیں کہ حکومت کے پاس آمدن بڑھانے کے دو ہی بڑے ذرائع ہیں: ٹیکس اور قرضہ۔ بدقسمتی سے پاکستان نے قرض لینے کو آسان راستہ سمجھ لیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک قرضوں کے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم نئی فنانسنگ سے بڑھ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت ایک خطرناک دائرے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں قرض لے کر قرض چکایا جا رہا ہے۔اس معاشی دباؤ کا سب سے زیادہ اثر عام شہری پر پڑ رہا ہے۔ مہنگائی کی مسلسل لہر نے روزمرہ اشیائے ضروریہ کو عوام کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی کمر توڑ چکا ہے۔ متوسط طبقہ سکڑتا جا رہا ہے جبکہ غریب طبقہ مزید غربت کی دلدل میں دھنس رہا ہے۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور ہنر مند افراد بہتر مواقع کی تلاش میں بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں، جس سے قومی معیشت مزید کمزور ہو رہی ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکمران طبقات کی شاہ خرچیاں بدستور جاری ہیں۔ سرکاری اخراجات میں کمی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر غیر ضروری پروٹوکول، لگژری گاڑیاں، بیرونی دورے اور غیر پیداواری منصوبے قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ جب عوام سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے اور دوسری طرف حکمران اشرافیہ خود سادگی اختیار نہ کرے تو عوام میں احساسِ محرومی اور بداعتمادی پیدا ہونا فطری امر ہے۔آج ملک کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ایک حقیقی اور جامع کفایت شعاری مہم ہے۔ یہ مہم محض بیانات یا وقتی اقدامات تک محدود نہ ہو بلکہ حکمرانوں سے لے کر سرکاری اداروں تک سب پر یکساں لاگو ہو۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات میں فوری کمی، سرکاری گاڑیوں اور مراعات کا ازسرنو جائزہ، غیر فعال اداروں کی نجکاری اور سرکاری وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنانا وقت کا تقاضا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سادہ اور کم شرح والے ٹیکس نظام کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اور شعبے اس میں شامل ہوں۔ غیر ضروری چھوٹ اور استثنیٰ کا خاتمہ کیا جائے اور ٹیکس وصولیوں کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے۔ ایسا نظام نہ صرف حکومتی آمدن میں اضافہ کرے گا بلکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔نجکاری کا عمل بھی شفاف اور مؤثر انداز میں آگے بڑھانا ہوگا۔ بہت سے سرکاری ادارے قومی خزانے پر مسلسل بوجھ بنے ہوئے ہیں، جنہیں بہتر انتظامی حکمت عملی کے تحت نجی شعبے کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف حکومتی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ معیشت میں کارکردگی اور مسابقت کا عنصر بھی بڑھے گا۔
پائیدار معاشی ترقی کیلئے طویل المدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ محض قرض لے کر وقتی استحکام حاصل کرنا کوئی حل نہیں۔ مقامی سطح پر تیار کردہ اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، صنعتوں کی بحالی، زراعت کی بہتری اور انسانی وسائل کی ترقی ہی وہ راستے ہیں جو معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ بیرونی سہاروں پر انحصار کسی بھی ملک کو معاشی خودمختاری نہیں دے سکتا۔ اگر پاکستان کو واقعی معاشی استحکام حاصل کرنا ہے تو اسے خود انحصاری، مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔ حکمرانوں کو ذاتی اور سرکاری سطح پر سادگی کی مثال قائم کرنا ہوگی تاکہ عوام بھی قربانی دینے کیلئے آمادہ ہوں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ معاشی بحران محض ایک چیلنج نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے کہ ملک اپنی معاشی سمت کا ازسرنو تعین کرے۔ اگر قرضوں کے بوجھ، غیر ضروری اخراجات اور فرسودہ ٹیکس نظام کو بروقت درست نہ کیا گیا تو بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ مگر اگر سنجیدگی سے اصلاحات، کفایت شعاری اور شفاف حکمرانی کو اپنایا گیا تو یہی معیشت دوبارہ استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔
ملتان کے تاریخی بازار اور ٹریفک جام، انتظامی غفلت کا تسلسل
ملتان جیسے قدیم اور گنجان آباد شہر میں ٹریفک جام ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے، جو شہری زندگی، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی سکون سب کو متاثر کر رہا ہے۔ بالخصوص شہر کے مصروف تجارتی مراکز جیسے بوہڑ گیٹ، حرم گیٹ، پاک گیٹ، گھنٹہ گھر، تغلق روڈ اور دولت گیٹ بازار میں روزانہ کی بنیاد پر شدید ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف تاجروں کے کاروبار کو متاثر کیا ہے بلکہ عام شہریوں کیلئے بھی نقل و حرکت ایک عذاب بن چکی ہے۔تاریخی بازاروں میں بے ہنگم ٹریفک، تجاوزات، غیر منظم پارکنگ اور ون وے کی خلاف ورزیاں اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ خاص طور پر حسین آگاہی بازار میں نصب روڈ اسپائکس کی ٹوٹ پھوٹ کے باعث ٹریفک نظم و ضبط بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے ون وے کی خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ نتیجتاً سڑکوں پر بدنظمی، حادثات کے خدشات اور شہریوں کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تاجر رہنماؤں کی جانب سے ایس ایس پی آپریشن سے ملاقات اور فوری نوٹس لینے کا مطالبہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مسئلہ محض ٹریفک کا نہیں بلکہ شہر کے معاشی پہیے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ تاجر برادری کا مؤقف ہے کہ جب خریدار بازاروں کا رخ کرتے ہیں تو لفٹر کے بے جا استعمال سے گاڑیاں اٹھا لی جاتی ہیں، جس سے کاروبار متاثر اور خریدار پریشان ہو کر واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ عمل کاروباری سرگرمیوں کیلئے نقصان دہ اور شہریوں کیلئے اذیت کا باعث بن رہا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ رمضان اور عید جیسے مواقع پر بازاروں میں رش کئی گنا بڑھ جاتا ہے، مگر اس کے باوجود ٹریفک مینجمنٹ کا کوئی مؤثر اور پیشگی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ پولیس گشت میں کمی، سٹریٹ کرائم کی وارداتیں اور پارکنگ کے ناقص انتظامات صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیتے ہیں۔ تاجر رہنماؤں کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ بازاروں میں فول پروف سیکیورٹی، موثر ٹریفک پلان اور لفٹر کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔دوسری جانب انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف وقتی اقدامات کے بجائے مستقل بنیادوں پر جامع حکمت عملی وضع کرے۔ تاریخی بازاروں میں مخصوص پارکنگ پلازے، پیدل چلنے والوں کیلئے علیحدہ راستے، ون وے ٹریفک کی سختی سے پابندی اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے بلا امتیاز کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ روڈ اسپائکس کی فوری مرمت اور جدید ٹریفک سگنل سسٹم کی تنصیب بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ تاجر برادری شہر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر بازاروں میں آمد و رفت آسان نہ ہو تو نہ صرف کاروبار متاثر ہوتا ہے بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ انتظامیہ اور تاجر تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ممکن ہے۔ملتان جیسے تاریخی شہر کے بازار صرف تجارتی مراکز نہیں بلکہ ثقافتی ورثہ بھی ہیں۔ اگر ان علاقوں میں ٹریفک کا مسئلہ اسی طرح برقرار رہا تو نہ صرف شہری زندگی متاثر ہوگی بلکہ شہر کی خوبصورتی اور شناخت بھی دھندلا جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور تاجر برادری مل کر ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دیں تاکہ شہریوں کو ریلیف ملے، کاروبار فروغ پائے اور شہر کا نظم و ضبط بحال ہو سکے۔
پنجاب میں نمبر پلیٹس کی نئی پالیسی: سہولت یا نیا چیلنج؟
پنجاب کے شہریوں کیلئے یہ واقعی ایک خوش آئند اقدام ہے کہ اب گاڑیوں پر لازمی طور پر سرکاری نمبر پلیٹس لگانے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب کی جانب سے جاری اس فیصلے نے نہ صرف عوام کی ایک دیرینہ شکایت کا ازالہ کیا ہے بلکہ عملی مشکلات کو بھی کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماضی میں شہریوں کو مہینوں سرکاری نمبر پلیٹس کے حصول کیلئے انتظار کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث وہ جرمانوں اور قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے تھے۔
یہ ایک تلخ حقیقت تھی کہ گاڑی رجسٹر ہونے کے باوجود سرکاری نمبر پلیٹس کی عدم دستیابی شہریوں کیلئے پریشانی کا باعث بنتی تھی۔ ٹریفک پولیس کی چیکنگ کے دوران شہریوں کو بارہا وضاحتیں دینا پڑتی تھیں اور بعض اوقات بلاجواز چالان بھی ہو جاتے تھے۔ اب نئی پالیسی کے تحت پرائیویٹ وینڈرز سے منظور شدہ فارمیٹ کے مطابق نمبر پلیٹس بنوانے کی اجازت نے اس مسئلے کا فوری حل فراہم کیا ہے۔اس فیصلے کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ عوام کو سہولت اور آسانی فراہم کی گئی ہے۔ شہری اب طویل انتظار، دفتری چکر اور اضافی اخراجات سے بچ سکیں گے۔ خاص طور پر موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کیلئے یہ ریلیف بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ محدود وسائل کے باعث سرکاری نمبر پلیٹس کے حصول میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرتے تھے۔ نئی پالیسی عوام دوست قدم ثابت ہو سکتی ہے اگر اس پر موثر انداز میں عملدرآمد کیا جائے۔
تاہم اس فیصلے کے ساتھ کچھ خدشات بھی وابستہ ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پرائیویٹ وینڈرز سے نمبر پلیٹس بنانے کی اجازت سے جعلسازی، غیر معیاری پلیٹس اور غیر قانونی گاڑیوں کی شناخت چھپانے جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اگر نگرانی کا موثر نظام نہ بنایا گیا تو یہ سہولت قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت منظور شدہ فارمیٹ، سیکیورٹی فیچرز اور رجسٹریشن ڈیٹا کے درمیان مکمل ہم آہنگی برقرار رکھے۔مزید برآں ٹریفک پولیس کو بھی واضح ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ شہریوں کو بلاجواز تنگ نہ کیا جائے۔ ماضی میں پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان فرق کی وجہ سے عوامی اعتماد متاثر ہوتا رہا ہے۔ اس بار ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے ایک مربوط نظام تشکیل دیں جس میں ہر نمبر پلیٹ کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ ہو۔دیکھا جائے تو یہ اقدام عوامی سہولت کے لحاظ سے مثبت اور بروقت ہے، مگر اس کے ساتھ مؤثر ریگولیشن ناگزیر ہے۔ اگر حکومت منظور شدہ ڈیزائن، سیکیورٹی کوڈز اور ڈیجیٹل تصدیقی نظام متعارف کرا دے تو یہ پالیسی نہ صرف شہریوں کیلئے آسانی پیدا کرے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے بھی مددگار ثابت ہوگی۔ سرکاری نمبر پلیٹس کی شرط ختم کرنا ایک عوام دوست فیصلہ ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار شفاف نظام، سخت نگرانی اور واضح رہنما اصولوں پر ہے۔ اگر ان پہلوؤں پر توجہ دی گئی تو یہ اقدام واقعی پنجاب کے شہریوں کیلئے ایک بڑی سہولت اور جدید طرزِ حکمرانی کی مثال بن سکتا ہے۔







