پاکستان کی معیشت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف عوام مہنگائی، ٹیکسوں اور بیروزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف حکمران طبقے اور بیوروکریسی کی شاہانہ زندگی کے قصے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ حالیہ اعداد و شمار نے اس تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ مرکزی حکومت کے قرضوں میں صرف ایک سال کے دوران تقریباً سات ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ سٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق جنوری 2026 تک مرکزی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم بڑھ کر 79 ہزار 322 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ جنوری 2025 میں یہ حجم 72 ہزار 124 ارب روپے تھا۔
یہ اعداد و شمار صرف ایک معاشی رپورٹ نہیں بلکہ ایک سنگین قومی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب قرضوں کا بوجھ اس رفتار سے بڑھ رہا ہو تو اس کا سیدھا اثر عوام کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ حکومت کو قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں خطیر رقم درکار ہوتی ہے جس کے لیے بالآخر عوام ہی پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق مقامی قرضوں میں 11.4 فیصد اضافہ ہوا ہے اور جنوری 2026 میں اس کا حجم 55 ہزار 978 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح بیرونی قرضوں میں بھی 6.7 فیصد اضافہ ہوا اور جنوری 2026 تک یہ 23 ہزار 344 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ طویل مدتی قرضوں کا حجم 12.7 فیصد اضافے کے ساتھ 47 ہزار 152 ارب روپے تک جا پہنچا ہے جبکہ قلیل مدتی قرض بھی بڑھ کر 8 ہزار 784 ارب روپے ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ معیشت مسلسل قرضوں کے سہارے چل رہی ہے۔
اس سنگین معاشی صورتحال میں سب سے بڑا سوال حکمرانوں اور بیوروکریسی کے طرزِ زندگی پر اٹھتا ہے۔ جب ایک طرف عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوں اور بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنا بھی مشکل ہو جائے تو دوسری طرف سرکاری وسائل سے ہونے والی شاہانہ اخراجات اور مراعات عوام کے لیے شدید مایوسی اور غصے کا باعث بنتی ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کے بڑے بڑے قافلے، پروٹوکول، سرکاری رہائش گاہوں کی پرتعیش زندگی اور غیر ضروری اخراجات ایسے مناظر ہیں جو عوامی احساسات کو مجروح کرتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمران طبقہ عوام کے مسائل سے کٹ جائے اور ریاستی وسائل کو ذاتی آسائشوں کے لیے استعمال کرے تو معاشرے میں ردعمل پیدا ہونا فطری امر ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کروڑوں لوگ غربت اور مہنگائی کے باعث بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہاں حکمرانوں اور اعلیٰ بیوروکریسی کی عیاشیاں نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سب سے پہلے اپنے اخراجات میں نمایاں کمی لائے۔ حکمرانوں کو عملی طور پر سادگی اپنانا ہوگی اور ریاستی وسائل کے بے جا استعمال کو روکنا ہوگا۔ بیوروکریسی کی غیر ضروری مراعات، شاہانہ دفاتر اور پرتعیش اخراجات کو بھی محدود کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکمران طبقہ خود سادگی اختیار کرے گا تو نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ عوام کے اندر اعتماد بھی بحال ہوگا۔پاکستان اس وقت معاشی مشکلات کے ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی یکجہتی اور ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ قرضوں کے بڑھتے بوجھ پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ معاشی اصلاحات کرے اور ساتھ ہی حکمرانی کے انداز میں سادگی اور کفایت شعاری کو فروغ دے۔ کیونکہ جب تک حکمران اور ریاستی ادارے خود مثال قائم نہیں کریں گے، عوام سے قربانیوں کی توقع کرنا محض ایک نعرہ ہی رہے گا۔







