قبائلی علاقے تمن کھوسہ اور تمن بزدار کے مکین آج بھی پتھر دور کی زندگی گزارنے پر مجبور

ڈیرہ غازیخان (ڈسڑکٹ رپورٹر ) ضلع ڈیرہ غازیخان کے قبائلی اور نیم پہاڑی علاقوں تمن کھوسہ اور تمن بزدار میں آج بھی عوام بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے بااثر سردار اور سیاسی شخصیات، جن میں کھوسہ اور بزدار قبائل سے تعلق رکھنے والے نمائندے شامل ہیں، مختلف سیاسی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور حکومتی اتحاد کا حصہ رہتے ہوئے انتخابات میں کامیاب ہوتے آئے ہیں، تاہم زمینی سطح پر عوامی مسائل میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔علاقہ مکینوں کے مطابق تمن کھوسہ اور تمن بزدار دونوں علاقوں میں صاف پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔ کئی دیہات میں آج تک واٹر سپلائی کا باقاعدہ نظام قائم نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مختلف ادوار میں ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات تو کیے گئے، مگر مستقل اور پائیدار اقدامات نظر نہیں آئے۔شہریوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ڈی جی سیمنٹ فیکٹری کی جانب سے بعض علاقوں میں ٹینکرز کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی ایک خوش آئند قدم ہے، جس سے وقتی ریلیف ضرور ملا ہے۔ تاہم مقامی افراد کا مؤقف ہے کہ یہ ذمہ داری منتخب نمائندوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کی ہے کہ وہ مستقل بنیادوں پر صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔روزگار کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نوجوان طبقہ بے روزگاری کے باعث پریشان ہے اور روزگار کی تلاش میں بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہے۔ مقامی سطح پر صنعت، ہنر مندی کے مراکز یا کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ سامنے نہیں آ سکا۔ نتیجتاً معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔صحت کے شعبے کی صورتحال بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ متعدد دیہات میں ڈسپنسریاں غیر فعال ہیں یا وہاں ڈاکٹرز اور ادویات دستیاب نہیں۔ معمولی بیماری کی صورت میں بھی مریضوں کو ڈیرہ غازیخان شہر منتقل ہونا پڑتا ہےجس سے قیمتی وقت ضائع ہونے کے ساتھ اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔تعلیم کے میدان میں بھی کئی مسائل درپیش ہیں۔ بعض سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، عمارتوں کی خستہ حالی اور بنیادی سہولیات کا فقدان نمایاں ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ معیاری تعلیم نہ ہونے کے باعث بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔مقامی سماجی کارکنان، جن میں نوجوان رہنما سلیمان بھی شامل ہیں، نے مطالبہ کیا ہے کہ تمن کھوسہ اور تمن بزدار کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود سہولتوں سے محروم ہیں، لہٰذا حکومت اور منتخب نمائندوں کو عملی اقدامات کر کے عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہیے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں