قانون بے بس؟ علی پور میں ریکارڈ یافتہ ملزم کا خاتون پر تیزاب سے حملہ

خیرپورسادات (نامہ نگار)قانون بے بس؟ علی پور میں ریکارڈ یافتہ ملزم کا خاتون پر تیزاب سے حملہ، خاتون بےیارومددگارتحصیل علی پور تھانہ کندائی کی حدودمیں قانون کی عملداری پر ایک اور بڑا سوالیہ نشان لگ گیا، جہاں تھانہ کندائی کی حدود موضع لنگر واہ، بستی کالے ارائیں میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر ریکارڈ یافتہ بدنام زمانہ ملزم نے تیزاب پھینک کر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔متاثرہ خاتون تاج مائی کے مطابق ملزم سلیم عرف سلیما طویل عرصے سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا تھا، تاہم متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت کے باعث کوئی پیشگی کارروائی عمل میں نہ آ سکی۔ نتیجتاً ملزم نے کھلے عام درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون پر تیزاب پھینک دیا۔واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ شہریوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ متاثرہ خاتون شدید زخمی حالت میں علاج کے مراحل سے گزر رہی ہے اور ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا کر رہی ہے۔تاج مائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “میرے اپنوں نے ہی میرا جینا محال کر دیا ہے، اگر مجھے تحفظ نہ ملا تو میری جان کو شدید خطرہ ہے۔”انہوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، سی سی ڈی، آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی پنجاب، آر پی او ڈیرہ غازی خان، ڈی پی او مظفر گڑھ، ڈی ایس پی علی پور اور ایس ایچ او تھانہ کندائی سے فوری نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر ایسے سفاک اور ریکارڈ یافتہ عناصر کے خلاف بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو عوام کا قانون اور ریاستی اداروں پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو فوری گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے تاکہ خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کا سدباب ہو سکے۔ایس ایچ او کندائی شہزاد بھٹہ نے اپنے موقف دیتے ہوئے کہا تیزاب ثابت نہیں، آپسی جھگڑے ہیں۔دونوں طرف سے ایف آئی آر درج ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں