حاصل پور( تحصیل رپورٹر ) وزیراعلیٰ پنجاب کا آرڈیننس ردی کی ٹوکری میں، تھانہ قائم پور کی حدود میں نابالغ بچی کے اغوا اور مبینہ شرعی نکاح کا انکشاف، ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ، ملزم تاحال آزادتفصیل کے مطابق تھانہ قائم پور کی حدود موضع نور پور 1 ماہ قبل احمد فیاض کی نابالغ بیٹی مبینہ طور پر اغوا کیا گیا ملزمان محمد شاہد ۔ جاوید و زاہد ولد محمد شریف کے خلاف 16_02_26 کو تھانہ قائم پور میں ایف آئی آر درج ہوئی لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے متاثرہ خاندان پریس کلب کے باہر سراپا احتجاج انکا کہنا ہے کہ ان کی بالغ بیٹی جسکی عمر تقریبا 12 سال ہے کو ورغلا کر اغوا کیا گیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر شرعی نکاح کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ورثاء نے مؤقف اختیار کیا کہ بچی کی عمر قانونی حد سے کم ہے، لہٰذا ایسا نکاح قانوناً اور شرعاً بھی محلِ نظر ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر ملزم کی گرفتاری اور بچی کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ بچی کو واپس ہٹانے کے ڈیڑھ لاکھ ڈیمانڈ کی جا رہی ہے شہری حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ نابالغ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ایسے واقعات میں تاخیر کے بجائے فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے جب اسی حوالے سے ایس ایچ او تھانہ قائم پور محمد اکرم عباسی کا ٹیلی فونک موقف جانا گیا تو انکا کہنا تھا کہ عدالت سے دفعہ 164 کے بیان ہو چکے ہیں جس پر ایف آئی آر خارج کر دی گئی ہے جبکہ کم عمر نابالغ بچی کا نکاح قانونی طور پر جرم ہے۔







