
حکومت نے سائبر کرائم ترمیمی بل 2024 کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ اتھارٹی سوشل میڈیا سے غیر قانونی مواد بلاک کرنے یا ہٹانے کے اختیارات رکھے گی۔
اہم نکات:
ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے اختیارات
اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، کسی فرد یا تنظیم کے خلاف مواد ہٹانے کے احکامات جاری کرے۔ نفرت انگیزی، دہشت پھیلانے، ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد بھی اس دائرہ کار میں شامل ہوگا۔
قابل سزا جرائم
جھوٹے الزامات، خوف و ہراس، جھوٹی معلومات پھیلانے، اور پورنوگرافی سے متعلق مواد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان جرائم میں ملوث افراد کو 5 سال قید یا 10 لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اتھارٹی کی تشکیل
اتھارٹی کا انتظام ایک چیئرمین اور چھ اراکین پر مشتمل ہوگا۔ اتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف متاثرہ افراد ٹربیونل میں اپیل کرسکیں گے۔
سوشل میڈیا مواد کی نگرانی
قانون کے تحت اتھارٹی کو یہ حق ہوگا کہ وہ کسی بھی پلیٹ فارم سے ریاست مخالف یا نفرت انگیز مواد ہٹا سکے۔
حکام کے مطابق یہ ترمیمی بل سائبر کرائم کے خلاف کارروائی کو موثر بنانے اور ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ بل کا مقصد عوام کو جھوٹے الزامات، خوف و ہراس اور غیر اخلاقی مواد سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین اور شہری حلقوں نے اس بل پر اپنی رائے دینا شروع کر دی ہے۔ کچھ حلقے اسے آزادی اظہار پر قدغن سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر اسے ڈیجیٹل دنیا میں ذمہ داری کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔






