فیصلہ کن مرحلہ، پاکستان کا حقِ دفاع اور قومی سلامتی

پاکستان ایک بار پھر اپنی بقا، خودمختاری اور داخلی امن کے تحفظ کی جنگ کے اہم مرحلے سے گزر رہا ہے۔ سرحد پار سے دراندازی، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والی کارروائیوں نے ملک کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خاموشی یا کمزوری کا مظاہرہ قومی سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا تھا۔ اسی پس منظر میں “آپریشن غضب للحق” محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے صبر کے لبریز ہونے، حقِ دفاع کے استعمال اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا واضح اعلان ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے مختلف شہروں اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی نئی لہر نے جنم لیا۔ سکیورٹی فورسز، مساجد، بازاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ دہشت گرد عناصر کو سرحد پار سے سہولت اور پناہ گاہیں حاصل ہیں۔ ان حالات میں ریاست کے لیے یہ ناگزیر تھا کہ وہ اپنے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے فیصلہ کن اقدامات کرے۔ آپریشن غضب للحق اسی ضرورت کا عملی اظہار ہے جس کے ذریعے دہشت گردی کے ڈھانچے اور سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ پرامن ہمسائیگی کی پالیسی اپنائی، لاکھوں افغان مہاجرین کو دہائیوں تک پناہ دی اور ہر عالمی فورم پر افغان امن عمل کی حمایت کی۔ مگر بدقسمتی سے افغان سرزمین پاکستان مخالف دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی موجودگی نے پاکستان کے امن کو مسلسل خطرات سے دوچار رکھا۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے پیچھے سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانے اور منظم معاونت کارفرما رہے ہیں۔
آپریشن کے دوران عسکری اہداف، اسلحہ ڈپو، لاجسٹک بیس اور دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کا بنیادی مقصد کسی ملک کی خودمختاری کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی دہشت گرد مشینری کو غیر مؤثر بنانا ہے۔ بین الاقوامی قانون بھی ہر ریاست کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں اور شہریوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ پاکستان کی کارروائیاں اسی اصول کے تحت حقِ دفاع کے زمرے میں آتی ہیں۔دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دشمن روایتی محاذوں کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ وار، ڈرون حملوں اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر فیک ویڈیوز اور گمراہ کن بیانیے اسی جنگ کا حصہ ہیں، جن کا مقصد عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا اور پاکستان کی جائز کارروائیوں کو متنازع بنانا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی افواج پیشہ وارانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ صرف دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ دہشت گرد عناصر کی شکست کے بعد سرحدی علاقوں میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے، جن میں خواتین اور معصوم شہری زخمی ہوئے۔ مساجد اور رہائشی علاقوں پر گولہ باری اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر انسانی جانوں کی حرمت سے عاری ہیں اور اپنی ہزیمت کا بدلہ نہتے لوگوں سے لینے پر اتر آئے ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کی جوابی کارروائی نہ صرف جائز بلکہ ناگزیر ہے۔قومی سلامتی کے تناظر میں یہ آپریشن صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی، سفارتی اور داخلی استحکام کا امتحان بھی ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت کو ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی جس میں سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانا، انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر کرنا اور دہشت گردی کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی شامل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی باور کرانا ضروری ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور اس کی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں، جارحانہ نہیں۔
پاکستان کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر غیر معمولی چوکسی کی ضرورت ہے۔ خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات، پراکسی وار کے امکانات اور دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ قومی دفاعی پالیسی کو ہمہ جہت بنایا جائے۔ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور سیاسی یکجہتی اس جنگ میں کامیابی کے لیے بنیادی ستون ہیں۔ادارتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو آپریشن غضب للحق دراصل اس عزم کا اظہار ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کا کوئی سایہ برداشت نہیں کرے گا۔ یہ پیغام نہ صرف دہشت گرد گروہوں بلکہ ان کے سرپرستوں کے لیے بھی واضح ہے کہ پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں کا تحفظ ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خطے میں مستقل امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ غلط فہمیاں کم ہوں اور ایک پرامن ہمسائیگی کی بنیاد رکھی جا سکے۔آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف بندوق کی نہیں بلکہ بیانیے، معیشت اور سماجی استحکام کی بھی جنگ ہے۔ قوم کو اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا اور ہر قسم کی اندرونی تقسیم سے بالا تر ہو کر ایک متحد پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنے دفاع سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ اگر ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جائے گا تو جواب بھی فیصلہ کن ہوگا، کیونکہ قومی سلامتی اور شہریوں کا تحفظ ہر ریاست کی پہلی اور آخری ذمہ داری ہے۔

جنوبی پنجاب کے تھل ایریامیں زرخیزی کامنصوبہ

پنجاب کی زرعی معیشت میں حالیہ پیش رفت، خصوصاً آلو کی پانچ لاکھ ٹن سے زائد ایکسپورٹ آرڈرز کا حصول، اس امر کا ثبوت ہے کہ درست پالیسی سازی اور جدید زرعی حکمتِ عملی کے ذریعے صوبہ نہ صرف اپنی غذائی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں روایتی کھیتی باڑی سے جدید زراعت کی طرف منتقلی کے جو بڑے فیصلے کیے گئے ہیں، ان کا اصل فائدہ جنوبی پنجاب کے تھل کے وسیع مگر کم ترقی یافتہ زرعی خطے کو پہنچ سکتا ہے۔تھل کا علاقہ ریتلی زمین، کم بارش اور محدود آبی وسائل کے باعث ہمیشہ سے زرعی پسماندگی کا شکار رہا ہے۔ مگر’’ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر ان تھل‘‘کے تحت سات ملین ایکڑ اراضی کو قابلِ کاشت بنانے کا فیصلہ ایک انقلابی قدم ہے۔ اگر یہ منصوبہ تسلسل اور سائنسی بنیادوں پر نافذ کیا جائے تو تھل کا صحرا مستقبل میں پنجاب کی خوراکی ضروریات پوری کرنے والا سب سے بڑا زرعی بیلٹ بن سکتا ہے۔تھل کو زرخیز بنانے کے لیے سب سے اہم عنصر پانی کا مؤثر انتظام ہے۔’’آن فارم رین ہارویسٹنگ‘‘ اور گراؤنڈ ری چارج ویل جیسے منصوبے تھل کی بقا کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ بارش کے پانی کو محفوظ کر کے زیر زمین ذخائر میں شامل کرنے سے نہ صرف زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہوگی بلکہ خشک سالی کے اثرات بھی کم ہوں گے۔ تھل میں چھوٹے ڈیم، واٹر کورسز کی بحالی اور ڈرپ ایریگیشن کے نظام متعارف کروا کر کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔
گرین ٹریکٹر پروگرام فیز فور میں سبسڈی کا اعلان چھوٹے کاشتکاروں کے لیے ریلیف کی حیثیت رکھتا ہے۔ تھل کے کسان جدید مشینری تک رسائی حاصل کر کے زمین کی بہتر تیاری، بروقت کاشت اور زیادہ پیداوار کے قابل ہو سکیں گے۔ اسی طرح محکمہ زراعت کی جانب سے بلڈوزرز کی خریداری بنجر زمینوں کی ہمواری اور نئی زمینوں کو زیر کاشت لانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔تھل کے موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فصلوں کے درست انتخاب کی بھی ضرورت ہے۔ کپاس، چنا، مونگ، باجرہ، گوار اور سورج مکھی جیسی فصلیں کم پانی میں بھی بہتر پیداوار دیتی ہیں۔ اگر جدید بیج، کھادوں کا متوازن استعمال اور مٹی کی زرخیزی بڑھانے کے لیے آرگینک مادہ شامل کیا جائے تو تھل کی زمین رفتہ رفتہ زرخیز بنتی جا سکتی ہے۔ زرعی ماہرین کی رہنمائی میں فصلوں کی گردش (کراپ روٹیشن) کا نظام اپنانا بھی زمین کی صحت بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔روف ٹاپ ہائیڈروپونک منصوبہ بظاہر شہری علاقوں کے لیے متعارف کروایا گیا ہے، مگر اس کا ماڈل تھل کے دیہی علاقوں میں بھی محدود پانی کے استعمال کے ساتھ سبزیوں کی کاشت کے لیے اپنایا جا سکتا ہے۔ اس طریقۂ کاشت سے سبزیوں کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے، جو غذائی قلت پر قابو پانے میں مدد دے گا۔ اسی طرح “اپنا کھیت، اپنا روزگار” پروگرام کے تحت فی ایکڑ مالی معاونت اور ایگریکلچر انٹرنز کی شمولیت تھل کے نوجوانوں کو زراعت کی طرف راغب کرے گی اور جدید سائنسی بنیادوں پر کاشتکاری کو فروغ ملے گا۔
ملتان، ساہیوال اور بہاولپور کے ماڈل ایگریکلچر مالز کی ریکارڈ سیل اس بات کا اشارہ ہے کہ کسانوں کو معیاری زرعی ادویات، بیج اور مشاورت ایک ہی جگہ فراہم کی جائے تو پیداوار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اگر یہی سہولت تھل کے اضلاع تک توسیع دی جائے تو کاشتکاروں کو بروقت رہنمائی اور وسائل میسر آئیں گے۔درحقیقت تھل کی ترقی صرف زرعی منصوبہ نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کی سماجی و معاشی بحالی کا ایجنڈا ہے۔ لاکھوں ایکڑ اراضی کو آباد کرنے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، دیہی غربت میں کمی آئے گی اور ملک کی غذائی خود کفالت مضبوط ہوگی۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ منصوبوں پر شفاف عمل درآمد، مقامی سطح پر نگرانی اور کاشتکاروں کی حقیقی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ اگر حکومت کی یہ پالیسیاں تسلسل کے ساتھ نافذ ہوئیں تو وہ دن دور نہیں جب تھل کا ریگستان سرسبز کھیتوں میں تبدیل ہو کر قومی معیشت کا مضبوط ستون بن جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں