فائرنگ کیس:لودھراںپولیس کی عزت دائوپر،کھلےعام گالیوں پربندکمرےمیں صلح کادبائو

ملتان(سٹاف رپورٹر)تھانہ صدر لودھراںکی حدود میں شادی کی تقریب میں اندھا دھند فائرنگ کو روکنےکیلئےآنے والی پولیس پارٹی کو ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی موجودگی میں فارم 47 والے ایک رکن اسمبلی کی طرف سے سینکڑوں افراد کی موجودگی میں دی جانے والی ناقابل اشاعت قسم کی گالیوں کے بعد آئی جی کی اجازت سےپولیس کارروائی پرباعزت صلح کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو سکیں ۔ ڈی پی او لودھرا ںکو ایک رکن اسمبلی کی طرف سے برابری کی بنیاد پر ون ون پوزیشن فارمولے کے تحت صلح کرنے اور مزید کارروائی نہ کرنے کی کوششیں فی الحال بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔ اس چپقلش کی وجہ سے ولیمہ کی تقریب بھی نہیں ہو سکی اور لودھراں پولیس سرعام گالیوں کے معاملے پر صلح کیلئے تیار نہیں کہ اگر سینکڑوں افراد کی موجودگی میں پولیس افسران کو دی جانے والی گالیوں کی بند کمرے میں صلح ہو گئی تو پولیس ضلع بھر میں اپنی رٹ کیسے قائم رکھ سکے گی ۔فائرنگ کرنے والا میاں مسعود عاقل جبلہ قریشی ضمانت پر ہے اور فارم 47 کے رکن قومی اسمبلی عبدالرحمان خان کانجو کی کوششیں بھی فی الحال کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی جبکہ فائرنگ میں ملوث ملزم جو کہ 16 نومبر تک ضمانت پر ہے سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے شامل تفتیش نہیں ہوا ۔ایک رکن اسمبلی کی طرف سے اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کرانے کا عندیہ دیا گیا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سینکڑوں افراد کی موجودگی میں قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کا استحقاق کیسے مجروح ہو سکتا ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے کی گئی ریڈ میں بھی پولیس نے ضابطے کی تمام کارروائی مکمل کی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں