غیر قانونی وائس چانسلرز یونین کے متنازع ممبران، ماضی میں سنگین اعتراضات لگ چکے

ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں مبینہ طور پر قائم کی گئی پہلی ’’غیر قانونی وائس چانسلر زیونین‘‘ نے اعلیٰ تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس متنازعہ اقدام کی قیادت وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے کی جس میں ایسے وائس چانسلرز کو بھی مدعو کیا گیا جن کے تجربے کے سرٹیفکیٹس پر ماضی میں خود اسی جامعہ کے سابق وائس چانسلرز سنگین اعتراضات اٹھا چکے ہیں اور تحریری طور پر نشاندہی کر چکے ہیں کہ متعلقہ تقرریاں مبینہ طور پر جعلی تجرباتی اسناد کی بنیاد پر حاصل کی گئیں۔ تعلیمی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اعلیٰ ترین انتظامی عہدوں پر فائز افراد کی تقرری ہی سوالات کی زد میں ہو اور انہیں ایک نئی قائم کردہ یونین کا حصہ بنایا جائے تو اس فورم کی قانونی و اخلاقی حیثیت ازخود مشکوک ہو جاتی ہے۔ ناقدین کے مطابق ایسی یونین نہ صرف قواعد و ضوابط سے متصادم ہے بلکہ یہ پورے نظامِ اعلیٰ تعلیم کی ساکھ پر بھی کاری ضرب ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس یونین کے قیام سے قبل نہ تووزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے کسی قسم کی منظوری لی گئی نہ ہی وائس چانسلرز کی تقرری کی آئینی اتھارٹی گورنر پنجاب کو اعتماد میں لیا گیا، اور نہ ہی متعلقہ انتظامی ادارے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے اجازت حاصل کی گئی۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری عہدے دار کی جانب سے اس نوعیت کی اجتماعی تنظیم سازی واضح قواعد کے بغیر نہ صرف اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آ سکتی ہے بلکہ مفادات کے ٹکراؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب سابق وائس چانسلرز خود بعض تقرریوں پر سنگین نوعیت کے اعتراضات قلمبند کر چکے ہوں تو ایسے افراد کو ایک نئے پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا کس مقصد کے تحت کیا گیا؟ ناقدین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف مذکورہ یونین بلکہ اس میں شریک وائس چانسلرز کی ذاتی و پیشہ ورانہ ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔ مزید برآںہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے سیکرٹری کی جانب سے تاحال کسی قسم کی کارروائی یا وضاحت سامنے نہ آنا بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے حساس معاملے پر بھی خاموشی اختیار کی جائے گی تو یہ طرزِ عمل شفافیت اور احتساب کے دعوؤں کی نفی کے مترادف ہوگا۔ اعلیٰ تعلیمی ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی فوری اور شفاف انکوائری کی جائے، یونین کے قیام کی قانونی حیثیت واضح کی جائے اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ساکھ اور نظامِ حکمرانی پر عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں