ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کے معروف طبی تعلیمی ادارے نشتر انسٹیٹیوٹ آف ڈینٹسٹری میں سامنے آنے والا حالیہ تنازع ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے، جہاں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ادارے کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زبیر حسن اویسی کے خلاف سامنے آنے والی شکایات درحقیقت ایک منظم مہم کا حصہ ہو سکتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض شرپسند اور مفاد پرست عناصر نے ذاتی مقاصد کے حصول اور اپنے مبینہ غیر قانونی و غیر اخلاقی مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف طالبات اور خواتین فیکلٹی ممبران کے نام سے وزیراعلیٰ پنجاب کے پورٹل پر شکایات اپ لوڈ کروائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں انہی شکایات کو بنیاد بنا کر ایک باقاعدہ انکوائری کا آغاز کروایا گیاجس میں پرنسپل ڈاکٹر زبیر حسن اویسی کو نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اویسی نے مبینہ طور پر ادارے میں جاری بعض غیر قانونی سرگرمیوں اور غیر اخلاقی سرپرستی کی مخالفت کی جس کے بعد انہیں دباؤ میں لانے اور راستے سے ہٹانے کے لیے یہ حکمت عملی اپنائی گئی۔ دوسری جانب سرکاری سطح پر جاری ہونے والی دستاویزات کے مطابق حکومت پنجاب نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے 27 فروری 2026 کو نوٹیفکیشن نمبر SO(DENTAL)02-80/2026 کے تحت تین رکنی پروب کمیٹی تشکیل دی جو ان الزامات کی مکمل چھان بین کر رہی ہے۔ کمیٹی میں سپیشل سیکرٹری جنوبی پنجاب بطور سربراہ جبکہ ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ (کمشنر آفس ملتان) اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر-II ہسپتال بطور ممبران شامل ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شکایات کی نوعیت، الزامات کی حقیقت اور ممکنہ بدانتظامی یا ہراسگی کے پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے کر پندرہ روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔ اسی سلسلے میں یکم اپریل 2026 کو جاری ہونے والے ہیرنگ نوٹس کے تحت پرنسپل ڈاکٹر زبیر حسن اویسی سمیت متعدد طالبات اور خواتین ڈاکٹرز کو 6 اپریل کو ذاتی سماعت کے لیے طلب کیا گیا ہے، جہاں تمام فریقین کو اپنے مؤقف اور شواہد پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ ادارے کے اندرونی حلقوں میں اس معاملے نے شدید ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف الزامات کی سنگینی زیر بحث ہے تو دوسری جانب اس تاثر نے بھی جنم لیا ہے کہ کہیں یہ پورا معاملہ ذاتی دشمنیوں اور گروہی مفادات کا شاخسانہ تو نہیں۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری کو ہر صورت شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر مکمل کیا جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور اگر یہ شکایات بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی ثابت ہوں تو ایسے عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ اداروں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ روکا جا سکے۔اس بارے میں جب موقف کے لیے پرنسپل نشتر انسٹیٹیوٹ آف ڈینٹسٹری پروفیسر ڈاکٹر زبیر حسن اویسی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ آپ میرے میڈیا منیجر ڈاکٹر مطاہر سے رابطہ کر لیں اور انہوں نے ڈاکٹر مطاہر کا نمبر بھیج دیا ۔جب اس بارے میں موقف کے لیے ڈاکٹر مطاہر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔







