پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات سے کوئی تعلق نہیں، پارٹی عمران خان کی قیادت میں متحد ہے۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ضمانت منظور ہونے پر عدالت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے خلاف مختلف شہروں میں مقدمات زیر سماعت ہیں، مگر وہ ایک وقت میں تین شہروں میں نہیں پہنچ سکتے، چاہے ان کے پاس اڑن طشتری ہی کیوں نہ ہو۔ عمر ایوب نے عدالتی اور پولیس نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دو روز قبل اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، جبکہ کئی افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک مضبوط ریاست ہونا چاہیے، مگر اس کی بنیاد آئین اور قانون پر ہونی چاہیے، تشدد اور جبر سے ریاست کمزور ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے دو بڑی طاقتوں کو شکست دی کیونکہ ان کی ریاست آئین اور قانون کی بنیاد پر قائم تھی۔ پی ٹی آئی میں گروپ بندی کی باتیں بے بنیاد ہیں، ہماری جماعت کسی فرد واحد کی چوہدراہٹ پر نہیں چلتی، بلکہ بانی پی ٹی آئی سب کی رائے کو سنتے ہیں اور پارٹی ان کی قیادت میں متحد ہے۔ اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ معدنیات سے متعلق قانون سازی صوبائی حکومت کا اختیار ہے، گرینڈ الائنس کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں، اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کو چاہیے کہ تمام جماعتوں کو اکٹھا کریں۔ سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی پاسداری ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ منرل کانفرنس کے دوران اڈیالہ جیل میں گرفتاریاں کی جا رہی تھیں، جبکہ اسلام آباد اور پنجاب پولیس ریاستی جبر میں ملوث ہے۔ انہوں نے جے آئی ٹی میں آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے تاکہ انہیں عہدے سے ہٹایا جا سکے۔ عمر ایوب نے مزید کہا کہ حکومت خود کہہ رہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی معافی مانگیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے خلاف کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔







