نجی ہوٹل، 11 لاکھ یونٹس بجلی چوری معاملے میں نیا موڑ، شہری کا میپکو چیف کو خط، 8 سوال-نجی ہوٹل، 11 لاکھ یونٹس بجلی چوری معاملے میں نیا موڑ، شہری کا میپکو چیف کو خط، 8 سوال-محکمہ صحت : اربوں کی کرپشن، ادویات، ٹینڈرز، صحت کارڈ بارے بڑے انکشافات-محکمہ صحت : اربوں کی کرپشن، ادویات، ٹینڈرز، صحت کارڈ بارے بڑے انکشافات-جہانیاں: پیرا فورس بھرتیوں میں مبینہ میرٹ پامالی، خفیہ انٹرویوز پر سوالات-جہانیاں: پیرا فورس بھرتیوں میں مبینہ میرٹ پامالی، خفیہ انٹرویوز پر سوالات-جنگ پھیل گئی، ایران کا مذاکرات سے انکار، 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعوی، مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر منتخب-جنگ پھیل گئی، ایران کا مذاکرات سے انکار، 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعوی، مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر منتخب-اوکاڑہ کی یونیورسٹی کے وی سی کا یوٹرن، کالج بورڈ خاتون سیٹ پر خود نامزد، گورنر رٹ چیلنج-اوکاڑہ کی یونیورسٹی کے وی سی کا یوٹرن، کالج بورڈ خاتون سیٹ پر خود نامزد، گورنر رٹ چیلنج

تازہ ترین

Imran Khan, PTI, Adiala Jail, Judicial Commission, May 9, November 26, Negotiation, Establishment, Court Cases, Toshakhana Case, Al-Qadir University Case, Aliema Khan, Missing Persons, Judicial System, Political Statements, Pakistan Politics

عمران خان کا بیان: اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی ملک و قوم کی ضرورت ہیں

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی دونوں کی موجودگی اس وقت ملک اور عوام کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ یہ بات ایڈووکیٹ فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔
فیصل چوہدری نے بتایا کہ عمران خان کی صحت بہتر ہے، تاہم انہیں آگاہ کیا گیا کہ ان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور دیگر پارٹی رہنماؤں اور وکلاء کو بھی روکا گیا۔ صرف دو افراد ہی جیل تک پہنچ سکے۔
ملاقات میں قانونی اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال ہوا، اور عمران خان نے 26ویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پر پارٹی کی قانونی کمیٹی اور قیادت چیف جسٹس کو خط لکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے کیسز عدالت میں نہیں لگائے جا رہے، بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے مائنز اینڈ منرلز بل کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے خیبر پختونخوا کی قیادت انہیں بریفنگ دے، اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔
افغانستان کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ضرورت پہلے دن سے تھی، لیکن حکومت نے وقت ضائع کیا جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری اسی وقت آئے گی جب ملک میں قانون کی حکمرانی بحال ہو۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ اب ان کی فیملی کو بھی ملاقات کا حق نہیں دیا جا رہا، جبکہ ماضی میں ایک وقت میں 9،9 وکلاء ان سے ملاقات کر چکے ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں