علی لاریجانی کی شہادت: امریکی جارحیت اوراسرائیلی بربریت

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے بھڑکتی ہوئی آگ میں مزید ایندھن کا کام کیا ہے۔ علی لاریجانی، جو ایرانی سیاسی و دفاعی ڈھانچے کی ایک مضبوط ستون تھے، امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کا نشانہ بنے۔ یہ واقعہ صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک المیہ ہے اور اس نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد خطے میں مسلم ممالک کو کمزور کرنا اور ان کی ترقی کی راہوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔علی لاریجانی کی شہادت کے فوری بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر کلسٹر وار ہیڈز لے جانے والے میزائلوں سے شدید حملے کیے۔ پاسداران انقلاب کے دعوے کے مطابق ان حملوں میں 100 سے زائد اسرائیلی اہداف نشانہ بنے اور 200 اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اگرچہ اسرائیلی میڈیا نے ان ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ ایران نے علی لاریجانی کی شہادت کا بھرپور جواب دیا ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر فضائی حملے کیے، جس میں 14 منزلہ عمارت منہدم ہو گئی اور 12 افراد جاں بحق جبکہ 41 زخمی ہو گئے۔ بشورا اور زقاق البلاط جیسے گنجان آباد علاقوں پر بغیر کسی پیشگی انتباہ کیے گئے ان حملوں نے اسرائیلی بربریت کی ایک اور مثال قائم کی ہے۔ اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے نتیجے میں اب تک 800 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع کرنے کا الزام مکمل طور پر امریکا پر عائد ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے فوجی اڈوں سے نکل کر شہری علاقوں اور ہوٹلوں میں منتقل ہونا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث ایسے مقامات بھی نشانے پر آئے جو آبادی کے قریب ہیں۔ عراقچی نے خلیجی ممالک کے شہری علاقوں کے قریب حملوں کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالت اس وقت اس قابل نہیں کہ وہ دنیا پر حکمرانی کر سکیں۔ امریکا کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے نیٹو اتحاد میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر میکرون کے بارے میں کہا کہ وہ جلد عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گےاور جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ضرورت کے وقت ان ممالک نے امریکا کے لیے کچھ نہیں کیا۔ دوسری جانب امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈمیں آگ لگنے کے بعد وہ جنگ چھوڑ کر واپس بندرگاہ کی طرف جا رہا ہے، جو امریکی طاقت کے زوال کی علامت ہے۔اس موقع پر مسلم دنیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایران اور لبنان کے ساتھ کھڑی ہو۔ جب ایران پر حملہ ہو رہا ہے، جب لبنان کے شہری اسرائیلی بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں، تو دوسرے مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے رہیں، یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ مسلم امہ کو متحد ہو کر امریکا اور اسرائیل کی اس جارحیت کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علی لاریجانی کی شہادت کا سخت انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ انتقام صرف ایران نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کا انتقام ہونا چاہیے۔ ایران تنہا اس جنگ میں نہیں ہے، بلکہ پورا خطہ اس جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ خلیجی ممالک، شام، عراق، یمن، لبنان اور فلسطین سب اس جنگ کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔اسرائیلی بربریت کی انتہا یہ ہے کہ وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے گنجان آباد علاقوں پر بمباری کر رہا ہے، جس میں معصوم شہری، بچے اور خواتین نشانہ بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ان مظالم پر خاموش ہیں، جو ان کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان نے اس تنازع میں متوازن موقف اختیار کرتے ہوئے ہمیشہ سفارت کاری پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب کا دورہ اور علاقائی ممالک سے مسلسل رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اس بحران کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران اور لبنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرے اور ان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے۔علی لاریجانی کی شہادت نے مسلم دنیا کو ایک بار پھر جاگنے کا موقع دیا ہے۔ یہ وقت خاموشی کا نہیں، بلکہ اتحاد اور یکجہتی کا ہے۔ اگر مسلم ممالک نے اب بھی متحد ہو کر امریکا اور اسرائیل کا مقابلہ نہ کیا تو کل کو ان میں سے ہر ایک کو اسی طرح نشانہ بنایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ علی لاریجانی کی شہادت کو قبول فرمائے اور مسلم امہ کو اتحاد کی توفیق عطا کرے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں