آج کی تاریخ

علیمہ خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج، عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ

راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہمیں کہیں بھی لے جا کر چھوڑا گیا تو ہم اڈیالہ جیل کے باہر ہی واپس آئیں گے، اور تب تک وہاں بیٹھیں گے جب تک بھائی سے ملاقات نہیں ہوتی۔
علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر پولیس کی حراست میں لئے جانے سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ عمران خان کو تنہا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کے بچوں، فیملی اور ڈاکٹروں سے ملاقاتیں بند کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا یہ قانونی حق ہے کہ وہ اپنے وکلا سے ملاقات کریں۔ پچھلی ملاقات میں سلمان صفدر اور بیرسٹر گوہر کو اندر جانے دیا گیا، مگر ظہیر عباس چوہدری کو روکا گیا۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے تمام حقوق چھین لئے گئے ہیں، اور جو ملاقات کرنا چاہتے ہیں، ان کو روکا جا رہا ہے۔ ہم کوئی غیر آئینی اقدام نہیں کر رہے، ہم یہاں پرامن بیٹھے ہیں، لیکن یہ غیر آئینی کام کر رہے ہیں۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ اگر ہمیں جیل میں لے جایا گیا تو یہ ٹھیک ہے، لیکن اگر ہمیں کہیں اور چھوڑا گیا تو ہم واپس آئیں گے۔ جب تک بھائی سے ملاقات نہیں ہوگی، ہم اڈیالہ جیل کے باہر ہی رہیں گے۔
قبل ازیں، میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرز کو گرفتار کیا جا رہا ہے، اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر، حامد رضا اور دیگر رہنما بھی اس عمل کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے محسن نقوی کو قومی اسمبلی میں بیٹھنے نہیں دیا اور شہباز شریف کو بھی بھگانے کی دھمکی دی۔
عمر ایوب نے کہا کہ آئی پنجاب ڈاکٹر عثمان کرپٹ شخص ہیں اور وہ سب کو دیکھ لیں گے کیونکہ یہ توہین عدالت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آئینی پوزیشن ہے اور ہم نے اس قوم کے لئے قربانیاں دی ہیں۔
عمر ایوب نے اعلان کیا کہ گرفتاری اور حراست کوئی مسئلہ نہیں ہے، عمران خان کے لیے ان کی جان بھی حاضر ہے۔ اپوزیشن لیڈر عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے قیدی وین میں بیٹھ گئے

شیئر کریں

:مزید خبریں