عظمیٰ بخاری کا بلاول بھٹو پر تنقید، “سندھ کے کسانوں کا خیال کیوں نہیں آیا؟

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول کو صرف پنجاب کے کسانوں کا خیال آیا، لیکن سندھ کے کسانوں کے مسائل پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سندھ میں گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کیا گیا؟ کیا وہاں کسانوں کو کوئی کسان کارڈ فراہم کیا گیا؟
ڈی جی پی آر لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں ہر سیزن میں مختلف احتجاج، دھرنے اور سیاسی مظاہرے ہوتے ہیں، کبھی کوئی کسانوں کا مسیحا بنتا ہے تو کبھی کوئی اور، لیکن ان میں سے اکثر کسی نہ کسی مافیا یا سیاسی ایجنڈے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کے جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت نے کسی بھی مقام پر طاقت کا استعمال نہیں کیا، بلکہ کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق حکومت نے کسانوں کے لیے 110 ارب روپے کا جامع پیکیج دیا ہے، جس میں ہر کسان کو 5 ہزار روپے فی ایکڑ دیے جائیں گے، جبکہ 25 ارب روپے کا ویٹ سپورٹ پروگرام بھی منظور کیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے بتایا کہ فلور ملز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گندم کی کم از کم 25 فیصد خریداری یقینی بنائیں، جبکہ بینک آف پنجاب کے ذریعے کسانوں کے لیے 100 ارب روپے کی کریڈٹ لائن قائم کی جا رہی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ کسان کارڈ کے ذریعے اب تک کسان 55 ارب روپے کی زرعی خریداری کر چکے ہیں، جبکہ 9500 ٹریکٹرز پر 10 ارب روپے سبسڈی دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ 5 ہزار سپر سیڈر مشینوں کے لیے بھی 8 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گندم اگانے والے کاشتکار کو 45 لاکھ روپے مالیت کا ٹریکٹر مفت دیا جائے گا، اور ہر ضلع میں ٹاپ 3 کاشتکاروں کو بالترتیب 10، 8 اور 5 لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ باتیں کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، پنجاب حکومت عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ کسانوں کو مکمل سہولت فراہم کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور نجی شعبے کے ذریعے خریداری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں