ملتان (سٹاف رپورٹر) ہائی کورٹ کی بروقت مداخلت سے کے ایک نجی کالج کے 400 بچوں کو آخری وقت میںامتحان میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی۔ بورڈ اف انٹرمیڈیٹ ملتان کے ارباب اختیار کی طرف سے ایک نجی کالج کی انتظامیہ کو 20 لاکھ روپے کی چٹی ڈالی گئی تھی جبکہ کالج انتظامیہ اتنی زیادہ رقم دینے سے انکاری تھی اس پر معاملات بگڑ گئے اور مذکورہ نجی کالج کی کچھ کمزوریاں پکڑ کر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن ملتان کی انتظامیہ نے کالج کو ایک لاکھ 27 ہزار روپے فی طالب علم کے حساب سے 400 بچوں کا مجموعی طور پر پانچ کروڑ چار لاکھ روپیہ جرمانہ بنا کر کالج انتظامیہ کو بھیج دیا اور مذکورہ رقم جمع کروانے تک تمام بچوں کے داخلے روک دئیے گئے جبکہ نہ ان چار سو طلبہ کو ایف ایس سی کے امتحانی سینٹروں میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی انہیں رول نمبر سلپیں جاری کی گئی۔ اس صورتحال پر کالج انتظامیہ نے فوری طور پر لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ سے رجوع کیا تو ہائی کورٹ کے حکم پر تمام کے تمام چار سو بچوں کو امتحان میں بیٹھنے کی فوری اجازت دے دی گئی تاکہ ان کا قیمتی سال ضائع نہ ہو۔ ہائی کورٹ کے حکم پر ملتان کے تعلیمی بورڈ نے آخری دن تمام بچوں کو رول نمبر سلپسیں جاری کر دیں تاہم جرمانے کا معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ بورڈ انتظامیہ نے پہلے بھی گلوبل نامی کالج سے 25 لاکھ لے کر ان کی فیسوں کو طول دیا اور فیسیں بروقت جمع نہ کرائی تھیں اب یہی حربہ ایک اور نجی کالج پر آزمایا گیا جس پر کورٹ نے معاملہ حل کر دیا۔ اس طرح کی طاقت کے استعمال کی کرپشن پر طلبہ کے والدین کی طرف سے ایچ ای ڈی اور چیئرمین بورڈ جو کہ کمشنر ملتان ہیں، کو فوری مداخلت اور نوٹس کی اپیل کی ہے۔







