ملتان ( سپیشل رپورٹر) فائن سٹی ہاؤسنگ سکیم ملتان کے الاٹیز گزشتہ کئی برس سے شدید مشکلات میں مبتلا ہیں۔ رقوم کی مکمل ادائیگی کے باوجود نہ پلاٹوں کا قبضہ دیا گیا ہے، نہ ہی بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ متاثرین نے ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (MDA) سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو ان کا حق دلائے۔ذرائع کے مطابق فائن سٹی ہاؤسنگ سکیم سابق ایم پی اے عامر سعید انصاری کی ملکیت ہے، جو 2011 میں منظور ہوئی۔ الاٹیز نے 700 سے زائد پلاٹ خریدے اور تمام اقساط 31 دسمبر 2019 تک مکمل طور پر ادا کر دیں۔ مگر اس کے باوجود قبضہ دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا اور ترقیاتی کام کئی برسوں سے رکے ہوئے ہیں۔متاثرین کا کہنا ہے کہ متعدد بار ایم ڈی اے، اربن پلاننگ اور سابق ایم پی اے عامر سعید انصاری سے ملاقاتیں کی گئیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ درخواستمیں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ فائن سٹی میں بجلی، پانی، سیوریج، اور گیس کے کنکشن تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔ متعدد پلاٹ ہولڈرز نے شکایت کی کہ وہ اپنی زندگی کی جمع پونجی اس منصوبے میں لگا چکے ہیں مگر آج تک زمین پر قبضہ نہیں مل سکا۔متاثرین نے 3 فروری 2026 کو ڈائریکٹر اربن پلاننگ، ایم ڈی اے کو باضابطہ درخواست پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ“ہم گزشتہ کئی سالوں سے انتظار کر رہے ہیں، ہر وعدہ اور ہر میٹنگ بے نتیجہ رہی۔ اگر قبضہ اور سہولتیں فوری فراہم نہ کی گئیں تو ہم عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوں گے۔”درخواست پر دستخط کرنے والے الاٹیز میںثقلین چوہان، ذیشان چغتائی، عمران خان،اشرف ڈوگر، عقیل انصاری، یاسر خان، ندیم قریشی، سعیدحسین،سیدعدنان بخاری،ندیم اسلم،غلام چشتی شامل ہیں۔ان متاثرین نے شکایت کی کہ “فائن سٹی کے دفتر سے بار بار یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں مگر عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں۔ ترقیاتی کام بند ہیں اور بجلی و گیس کی لائنیں صرف وعدوں کی حد تک ہیں۔”ایم ڈی اے ذرائع کے مطابق ڈی جی ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اربن پلاننگ ونگ کو فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملہ 18 نومبر 2025 کے ڈی ڈی یو پی نمبر 827 کے تحت پہلے بھی زیرِ غور لایا گیا تھا، تاہم کوئی عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔شہری حلقوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فائن سٹی ہاؤسنگ سکیم کے الاٹیز کو فوری قبضہ دلایا جائے، ترقیاتی کاموں کی نگرانی ایم ڈی اے کے ذریعے کی جائے اور عوام کی جمع پونجی کو مزید ضائع ہونے سے بچایا جائے۔






