اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں ہزاروں طالبان کو پاکستان لا کر آباد کیا گیا، اور اب بھی پی ٹی آئی رہنما انہی دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ برسوں تک مذاکرات اور اعلیٰ سطحی وفود کے کابل آمدورفت کے باوجود پاکستان میں دہشت گردی کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔
ان کے مطابق کئی سالوں سے ہماری افواج اور عوام دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، روزانہ فوجی جوانوں کے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے 60 لاکھ افغان مہاجرین کی چھ دہائیوں تک میزبانی کی، مگر اس مہمان نوازی کی قیمت ہم اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں۔
ھزاروں طالبان کو عمران خان نے پاکستان لا کے بسایا۔ آج بھی PTI دھشت گردوں سے مذاکرات کی بات کر رہے ھیں۔ سالوں سے ھماری فوج اور عوام کا خون بہایا جارہا ھے۔ افغان حکومت کے ساتھ سالوں پہ محیط مذاکرات اور وفود کا کابل آنے جانے کے باوجود پاکستان میں خونریزی بند نہیں ھوئ۔ روزانہ فوجی… https://t.co/0s07UzGtEd
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 9, 2025
وزیر دفاع نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان مہمان اپنے وطن واپس جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے مہمان ہیں جو میزبان ملک کے شہریوں کا خون بہاتے ہیں اور قاتلوں کو پناہ دیتے ہیں۔
خواجہ آصف نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی بند کی جائے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔







