صنعتی موت کا سلسلہ اور حکومتی غفلت کا نہ ختم ہونے والا نوحہ

فیصل آباد کے مَلِک پور علاقے میں پیش آنے والا یہ المناک حادثہ، جس میں کم از کم سترہ انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، محض ایک فیکٹری میں گیس لیکیج کا حادثہ نہیں بلکہ پاکستان کے صنعتی علاقوں میں برسوں سے جاری منظم غفلت، غیر ذمہ دارانہ نگرانی، مزدور دشمن پالیسیوں اور حکومتی بے حسی کا وہ تسلسل ہے جو ہر چند ماہ بعد درجنوں گھروں میں سوگ برپا کر دیتا ہے۔ ہر بار دھواں، ملبہ، چیخیں اور پھر ’’تحقیقات‘‘ کا وعدہ۔ ہر بار امدادی گاڑیاں، حکومتی بیانات اور پھر خاموشی۔ ہر بار مزدور مرتے ہیں اور صنعتی مالکان بچ نکلتے ہیں۔ یہ سانحہ بھی اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔کمشنر فیصل آباد کے دفتر کے بیان کے مطابق علاقے میں چار فیکٹریاں کام کر رہی تھیں، جن میں سے ایک میں گیس لیکیج سے آگ بھڑکی اور اس نے ساتھ ہی موجود دوسری فیکٹریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سات قریبی گھر بھی متاثر ہوئے اور فیکٹری اور گھروں کی چھتیں گرنے سے درجنوں لوگ ملبے تلے آگئے۔ سترہ لاشیں نکالی گئیں اور کئی زخمی اسپتال منتقل کیے گئے۔ امدادی سرگرمیوں کے دوران بیس سے زائد ایمبولینسوں، ریسکیو عملے اور فائر ٹینڈرز نے حصہ لیا۔ یہ واقعہ صبح پانچ بج کر اٹھائیس منٹ پر رپورٹ ہوا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ سب پاکستانی صنعتی تاریخ کی بار بار دہرائی جانے والی المناکیوں کا ایک اور باب ہے۔ابتدائی اطلاعات میں اسے بوائلر دھماکہ کہا گیا، جو ہمارے ہاں فیکٹری حادثات کا ہمیشہ سے عام بہانہ رہا ہے، لیکن بعد میں ریسکیو ۱۱۲۲ اور کمشنر آفس نے واضح کر دیا کہ فیکٹری میں کوئی بوائلر موجود ہی نہیں تھا، بلکہ اصل وجہ گیس لیکیج تھی۔ اس وضاحت نے ایک بار پھر ہمارے صنعتی و سرکاری نظام کی بدنظمی کا پردہ چاک کیا۔ فیکٹریوں میں قواعد کے خلاف گیس لائنیں، حفاظتی آلات کا نہ ہونا، صنعتی علاقوں میں رہائشی گھروں کا ہونا، فیکٹری لائسنس کے بغیر غیر قانونی کام، محکمہ محنت کی خاموش ملی بھگت، سست نگرانی اور فائر سیفٹی قوانین کی عدم موجودگی—یہ سب عناصر مل کر ہر چند ہفتے بعد اس طرح کی قیامت کا سامان کرتے ہیں۔ہمارے ملک میں صنعتی دہشت گردی بوائلر سے نہیں، لالچ سے پھوٹتی ہے۔ مزدوروں کے خون سے بچائی گئی دولت صنعتکار کو چند لاکھ بچا دیتی ہے، مگر کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیتی ہے۔ ان فیکٹریوں میں موجود مزدور بیشتر غیر تربیت یافتہ، غیر محفوظ، کم اجرت کے مارے، یونین سازی کے حق سے محروم، سوشل سکیورٹی سے دور اور روزگار کھونے کے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہیں نہ حفاظتی آلات ملتے ہیں، نہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت۔ وہ روز صبح اس امید پر کام پر جاتے ہیں کہ رزق ملے گا، مگر انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ فیکٹری ان کے لیے موت کا پھندا بن چکی ہے۔قومی تجارتی یونین فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے جس دکھ اور غصے کا اظہار کیا، وہ ہر مزدور کے دل کی آواز ہے۔ انہوں نے بجا طور پر کہا کہ ’’فیکٹریاں مزدوروں کے لیے موت کے پھندے بن چکی ہیں اور صنعتکار موت کے سرٹیفکیٹ بانٹ رہے ہیں‘‘۔ یہ محض شدت پسندانہ بیان نہیں، بلکہ اس معاشرتی حقیقت کی عکاسی ہے کہ پاکستان میں مزدور کی زندگی سب سے ارزاں سمجھ لی گئی ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو براہِ راست ذمہ دار قرار دیا، اور یہ بات غلط بھی نہیں۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختون خوا اور بلوچستان—تمام صوبوں میں محنت کشوں کے حقوق کے قوانین موجود ضرور ہیں، مگر ان کے نفاذ کا نظام مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔یہ حادثہ کوئی پہلا نہیں۔ پچھلے سال اپریل میں فیصل آباد کی ایک ٹیکسٹائل مل میں بوائلر پھٹنے سے بارہ مزدور زخمی ہوئے تھے، ہال کی چھت گر گئی تھی، آگ بھڑک اٹھی تھی، مگر اس وقت بھی ’’تحقیقات‘‘ ہوئی تھیں اور معاملہ وہیں ختم ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے کراچی کی بلدیہ فیکٹری کا افسوسناک واقعہ پوری قوم کو یاد ہے۔ اس واقعے میں ڈھائی سو سے زائد مزدور زندہ جل گئے تھے، مگر نظام بدلنے کے بجائے صرف قاتلوں کے نام بدلے گئے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہےمزدوروں کے لیے جو حفاظتی انتظامات عالمی سطح پر بنیادی سمجھے جاتے ہیں، پاکستان میں ان کا نام و نشان تک نہیں۔ فیکٹری بلڈنگ کوڈ موجود ہے مگر اس پر عمل درآمد صفر۔ صنعتی علاقوں میں ایمرجنسی روٹس غائب، فیکٹریوں میں فائر الارم سسٹم خراب یا موجود نہیں، بجلی کی ناقص وائرنگ، متبادل راستوں کا نہ ہونا، غیر معیاری گیس انسٹالیشن، غیر قانونی تعمیرات، اوور لوڈ مشینری—یہ سب مل کر ہر فیکٹری کو حادثے کا منتظر بنا دیتے ہیں۔حکومت پنجاب نے ایک انکوائری کمیٹی بنا دی ہے، جو پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ بننے والی شے ہے۔ کمیٹیاں ہی کمیٹیاں، مگر ان کے نتیجے میں ہونے والا عملی اقدام کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ ان کمیٹیوں کے پاس نہ یہ اختیار ہوتا ہے کہ مجرموں کو سزا دلوائے، نہ یہ وسعت کہ پورے صنعتی نظام کی اصلاح کر سکے۔ اسی لیے ہر کمیٹی محض کاغذوں کا پلندہ بن کر ختم ہو جاتی ہے۔ اصل مجرم اپنی دولت کے سائے میں پنپتے رہتے ہیں، محنت کش قبرستانوں میں دفن ہوتے رہتے ہیں۔یہ حادثہ اس سوال کو بھی پھر سے زندہ کرتا ہے کہ کیا پاکستان میں مزدور کی جان کی کوئی قیمت ہے؟ قومی تجارتی یونین فیڈریشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر جاں بحق مزدور کے خاندان کو تیس لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے اور تمام زخمیوں کو مکمل اور مفت علاج فراہم کیا جائے۔ یہ مطالبہ نہ صرف جائز ہے بلکہ ریاست کی ذمہ داری بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومتیں محض معاوضہ دے کر اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو سکتی ہیں؟ اصل مسئلہ معاوضہ نہیں، اس نظام کی تبدیلی ہے جو مزدور کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیتا۔یہ ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر صنعتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر معائنہ مہم چلائے۔ فیکٹریوں کی گیس لائنوں، بجلی کے نظام، مشینری، تعمیرات اور حفاظتی آلات کا سختی سے جائزہ لیا جائے۔ جو فیکٹریاں قوانین کی خلاف ورزی کرتی پائی جائیں، انہیں فوری بند کیا جائے۔ مالکان کو نہ صرف بھاری جرمانے کیے جائیں بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں فوجداری کارروائی کی جائے۔ جب تک صنعتکاروں کے لیے یہ پیغام واضح نہیں ہوتا کہ مزدور کی جان لینے والی غفلت ناقابلِ معافی جرم ہے، تب تک صنعتی موت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔یہ اداریہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ محنت کشوں کی یونین سازی، منظم مزدور تحریک اور اجتماعی سودے بازی کے حقوق کے بغیر فیکٹریوں میں زندگیاں محفوظ نہیں ہو سکتیں۔ صنعتکار یونینوں کو کمزور کرنے کے لیے حکومتوں سے ملی بھگت رکھتے رہے ہیں تاکہ مزدور تنہا رہے اور مطالبہ کرنے کی ہمت نہ رکھ سکے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ مزدوروں کو وہ تنظیمی طاقت دی جائے جو ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے لازمی ہے۔ریاست کو سمجھنا ہوگا کہ صنعتی ترقی کا مطلب صرف بڑھتی ہوئی پیداوار نہیں بلکہ محفوظ اور انسانی وقار کے مطابق کام کرنے والے حالات فراہم کرنا بھی ہے۔ اگر ایک ملک اپنے مزدوروں کو موت کے منہ میں دھکیل کر معیشت چلانا چاہتا ہے تو ایسی ترقی محض دھوکہ ہے، ظلم ہے اور طویل مدت میں معیشت کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔فیصل آباد کے حادثے نے ایک بار پھر ہمیں جھنجھوڑا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ریاست، حکومت، عدلیہ، صنعتکار، محنت کش تنظیمیں اور شہری مل کر اس نظام کو بدلنے کا مطالبہ کریں۔ اگر آج بھی ہم نے کچھ نہ کیا تو اگلے ماہ، اگلے برس، کسی اور فیکٹری، کسی اور علاقے میں، وہی آگ، وہی دھماکہ، وہی چیخیں، وہی لاشیں، اور پھر وہی انکوائری کمیٹی ہمارا منتظر ہوگی۔پاکستان اس دائرے سے کب نکلے گا؟ یہ فیصلہ آج ہمیں کرنا ہوگا—ورنہ محنت کشوں کی قبریں گواہی دیتی رہیں گی کہ ہم نے ریاست کو انسان سے زیادہ منافع کا محافظ بنا دیا تھا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں