ملاوٹ شدہ سونے کا غیر قانونی کاروبار

صرافہ بازار ملتان میں جعلی سونے کی کانیں ،8 تولے سکے پر 2 تولہ پانی ،خواجہ اسلم سرپرست

ملتان(سٹاف رپورٹر)صرافہ بازار ملتان میں 10 تولے سونے کے ملاوٹ شدہ اورسکے کے اوپر سونے کی تہہ چڑھا کر جعلی بسکٹ فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس دھندے میں صرافہ بازار کے پانچ مرتبہ صدر بننے والے موجودہ صدر خواجہ اسلم شامل ہیں۔ ان کا فروخت شدہ مال حیدرآباد میں پکڑا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ8 تولے سکہ لے کر اس کے اوپر2تولے خالص سوناچڑھا کر 10 تولے کا بسکٹ جو کہ ان دنوں کی قیمت 26 لاکھ75 ہزار میں فروخت کرتے ہیں۔اس سکہ بھرےسونےکےبسکٹ پر صرف7 سے8 لاکھ روپے لاگت آتی ہے اور یہ 27 لاکھ کے لگ بھگ فروخت کر رہے ہیں جبکہ معروف برانڈ جن میں سوئس برانڈ سر فہرست ہیں کےملاوٹ شدہ10 تو لے سونےکے بسکٹ بھی ملتان میں ہی تیار کرنے والا گروہ بھی خواجہ اسلم ہی کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔یہ گروہ 10 تولے کے بسکٹ میں 20 رتی کی ملاوٹ کر کے فی بسکٹ 60 ہزار روپے کا ہر خریدار کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ جب بھی خواجہ اسلم صرافہ بازار ملتان کا صدر بنتا ہے تو ملتان میں سونے میں ملاوٹ کا مکروہ دھندا اور سود خوری عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ اس گروپ کے لوگ کھل کر سود خوری کرتے ہیں جنہیں خواجہ اسلم ہی کی سرپرستی حاصل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملتان کے صرافہ بازار کے ایک مرحوم کاریگر مانو نیاریہ کے دو بیٹے ان دنوں ملاوٹ شدہ بسکٹ کی تیاری اور چوری شدہ سستے داموں خریدے گئے سونے کی ڈھلائی کرتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے بہت سے اضلا ع کے تھانیدار برآمد شدہ سونے کا بڑا حصہ اس خواجہ سلم ہی کے ذریعے فروخت کراتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خواجہ اسلم گروپ کو پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ ملاوٹ شدہ بسکٹ جنہیں ان جعلساز صراف حضرات کی زبان میں بند بسکٹ کہا جاتا ہے۔ انتہائی صفائی سے ملتان میں تیار کیا جا رہا ہے۔ اور اس کی تیاری کرنے والوں کی سرپرستی خواجہ سلم ہی کرتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں