تازہ ترین

صادق یونیورسٹی میں ’’باکمال لوگ، لاجواب انتظامیہ‘‘ ، دو انجم نے دن میں تارے دکھا دئیے

ملتان (سٹاف رپورٹر)’’باکمال لوگ، لاجواب انتظامیہ‘‘ یہ فقرہ اگر آج گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی موجودہ صورتحال پر چسپاں کیا جائے تو شاید مبالغہ آرائی نہ ہو گی۔ اس یونیورسٹی میں ایک اور سنگین انتظامی بحران نے نہ صرف ادارے کی ساکھ بلکہ وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم کی اہلیت، گرفت اور فیصلہ سازی پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ڈاکٹر شازیہ انجم جو بطور وائس چانسلر فرائض سر انجام دے رہی ہیں، یونیورسٹی کے اندر جاری متنازع تقرریوں، ترقیوں اور انتظامی فیصلوں پر مؤثر کمانڈ برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر سلیکشن کمیٹی (سرچ کمیٹی) کے ذریعے تعینات کیے گئے افسران کی کارکردگی اور شفافیت پر بھی اب خود ایک بڑا سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ اسی تناظر میں یونیورسٹی میں سامنے آنے والا حالیہ معاملہ انتظامی بدانتظامی کی ایک واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر صائمہ انجم، جو بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر کیمسٹری خدمات سرانجام دے رہی ہیں، اس وقت اضافی طور پر رجسٹرار کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔ رجسٹرار کی حیثیت سے وہ یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کی سیکرٹری بھی ہیں، جبکہ سلیکشن بورڈ سے متعلق تمام کلیدی امور، جن میں سکرو ٹنی کمیٹی کی فہرستوں کی تیاری، ڈوزیئر ایویلیوایشن، سلیکشن بورڈ کے انعقاد اور دیگر انتظامی مراحل شامل ہیں، یہ سب براہِ راست انہی کی نگرانی میں انجام پا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ایک نہایت تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر صائمہ انجم کو 2024 میں اسسٹنٹ پروفیسر سے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی دی گئی، تاہم 2025 میں انہوں نے دوبارہ پروفیسر کیمسٹری کے عہدے کے لیے درخواست اپنے ہی روبرو جمع کرا دی۔ یاد رہے کہ عارضی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم نے اپنی مقابلے کی امیدوار خواتین ڈاکٹر میمونہ، ڈاکٹر شہلا اور ڈاکٹر نسیم کو اس مقابلے میں کلین بولڈکرنے کے لیے تیاریاں کرتے ہوئے سلیکشن بورڈ میں اپنی من پسند ایکسپرٹس کی لسٹ، ڈوذئیر ایویلیوٹرز سمیت پہلے ہی تمام تر منصوبہ بندی کر لی ہے اور وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم کی کھلے عام سرپرستی میں وہ اکیلی ہی پروفیسر بن جائیں گی کیونکہ سیٹ بھی ایک ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر صائمہ انجم کا ایسوسی ایٹ پروفیسر کا پروبیشن بھی ابھی تک مکمل نہ ہوا مگر انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم کو اسسٹنٹ خزانچی منصور احمد خان کی مدد سے گھیرے میں لے کر خود کو پروفیسر بنوانے کی مکمل تیاری کر لی ہے۔ اسی سلسلے میں تین معزز خواتین اراکین اسمبلی نسرین ریاض، عشرت اشرف، شازیہ حیات اور باقی ممبران ماسوائے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، لاء ڈیپارٹمنٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کو بلا کر پری سینڈیکیٹ کی میٹنگ منعقد کی اور تمام ممبران کو بہترین ہائی ٹی اور ٹی اے ڈی اے دیتے ہوئے اپنی رعایا کی منصوبہ بندی پر قائل کر لیا۔ یاد رہے کہ اپنی تین مقابلے کی خواتین کو سلیکشن بورڈ اور ڈوذئیر ایویلیوٹرز سے باہر کروانے کی اس ظالم چال کھیلنے میں وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم اور عارضی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم پری سینڈیکیٹ میں ممبران کو اپنی منصوبہ بندی سمجھاتے ہوئے نہایت معصومیت سے کام لیتی ہیں کہ یہ پری سینڈیکیٹ اس لیے منعقد کی جاتی ہے کہ سینڈیکیٹ کے موقع پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، فنانس اور لاء ڈیپارٹمنٹ کے سامنے شرمندگی نہ ہو جبکہ اصل مقصد اپنی ترقی کی منصوبہ بندی کو کامیاب کرنا ہوتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گورنر پنجاب اس سے پہلے مختلف یونیورسٹیوں میں تعینات ایسوسی ایٹ پروفیسر حضرات کو بطور رجسٹرار اپنی پروفیسر کے لیے درخواستیں خود وصول کرنے کو بھی غیر قانونی قرار دے چکے ہیں جس میں خواتین یونیورسٹی ملتان کی مثال واضح ہے۔ حیران کن طور پر یہ درخواست بھی ڈاکٹر صائمہ انجم نے بطور رجسٹرار خود ہی وصول کی، جسے ماہرین تعلیم اور انتظامی امور کے مبصرین مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کی ایک کھلی مثال قرار دے رہے ہیں۔ جب ایک ہی فرد امیدوار بھی ہو، درخواست وصول کرنے والا افسر بھی ہو، اور سلیکشن بورڈ کے تمام انتظامی معاملات پر اثر انداز بھی ہو رہا ہو، تو ایسے عمل سے شفافیت، میرٹ اور انصاف کے تقاضے بری طرح مجروح ہوتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف دیگر اہل امیدواروں کے حق پر سوال اٹھتا ہے بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ معاملہ یہیں تک محدود نہیں۔ ڈاکٹر صائمہ انجم کا نام ایک اور متنازع معاملے میں بھی سامنے آ رہا ہے، جہاں وہ مبینہ طور پر منصور احمد خان کے کیس میں مرکزی سہولت کار (Facilitator) کے طور پر کردار ادا کرتی رہیں۔ الزام یہ عائد کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ افسر کی کریمنل اور پرسنل فائل کلیئرنس کے عمل میں ڈاکٹر صائمہ انجم کا کردار فیصلہ کن رہا، جس نے اس پورے عمل کی شفافیت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تعلیمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پروفیسر شپ ایک نہایت معزز اور اعلیٰ تعلیمی منصب ہے، جس کے لیے صرف علمی قابلیت ہی نہیں بلکہ غیر معمولی دیانت، شفاف کردار اور بلند اخلاقی معیار بنیادی شرط ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ جب کسی افسر پر انتظامی، اخلاقی اور شفافیت سے متعلق سنگین اعتراضات موجود ہوں، تو وہ کس بنیاد پر اس مقدس اور باوقار منصب کی اہل قرار دی جا سکتی ہیں۔ ان تمام حالات میں سب سے بڑا سوال وائس چانسلر ڈاکٹر شازیہ انجم کے کردار پر آ کر ٹھہرتا ہے۔ یونیورسٹی میں مسلسل سامنے آنے والے ایسے متنازع معاملات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یا تو وائس چانسلر کو ادارے کے اندر ہونے والے امور پر مکمل گرفت حاصل نہیں، یا پھر وہ سرچ کمیٹی کے ذریعے تعینات افسران کے فیصلوں پر مؤثر نگرانی کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں یہ دونوں صورتیں ادارے کے لیے خطرناک سمجھی جا رہی ہیں۔ اس بارے میں گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہم نے رجسٹرار کا بھی اشتہار دیا ہوا ہے۔ آپ کے مطابق رجسٹرار اس میں امیدوار بھی ہیں اور اتھارٹی بھی ہیں تو ایسا نہیں ہے ہم نے سب سے پہلے ایڈ رجسٹرار کا دیا تھا اور سب سے پہلے ہم رجسٹرار کی اپوائنٹمنٹ کریں گے اور اس کے بعد ہم باقی ساری اپوائنٹمنٹس کریں گے تاکہ شفافیت کو مد نظر رکھا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں