تازہ ترین

صادق یونیورسٹی: فون کالز پر فیصلے، تحریری قواعد ثانوی، نیا انتظامی تنازع شدت اختیار کر گیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر کی جانب سے سینڈیکیٹ کی صدارت کے حوالے سے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور سب ڈیلیگیشن پاورز سے متعلق ابہام نے ایک نیا انتظامی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اخبارات میں سب ڈیلیگیشن پاورز پر قدغن سے متعلق خبر شائع ہوتے ہی یونیورسٹی انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی اور عارضی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صائمہ انجم کو فوری طور پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وضاحت لینا پڑی۔ رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کے قریبی ذرائع کے مطابق انہوں نے ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ زاہدہ اظہر کو فون کر کے سوال کیا کہ آیا واقعی سب ڈیلیگیشن پاورز کو مزید آگے منتقل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس خبر کے بعد یونیورسٹی میں کیے گئے متعدد فیصلے اور دستخط شدہ احکامات مشکوک قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس پر ایڈیشنل سیکرٹری زاہدہ اظہر نے غیر رسمی انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ سب ڈیلیگیشن تو ہو جاتی ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں، جبکہ اخبارات کا کام صرف خبر بنانا ہے۔ اس بیان نے مزید سوالات کو جنم دے دیا ہے کہ اگر واقعی سب کچھ قواعد کے مطابق ہے تو تحریری وضاحت اور باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیوں نہیں کیا جا رہا؟ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی اس مبہم وضاحت نے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید الجھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اختیارات کی سب ڈیلیگیشن ایک حساس قانونی معاملہ ہے، جسے “خبری شور” قرار دے کر نظرانداز کرنا شفاف طرزِ حکمرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں سب ڈیلیگیشن پاورز کو غیر قانونی قرار دیا گیا تو ذمہ داری کس پر عائد ہو گی؟ کیا عارضی انتظامیہ اس کی جواب دہ ہو گی یا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ؟ حلقوں میں یہ بھی چہ مگوئیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کو مستقل انتظامی قیادت نہ ملنے کی وجہ سے آئے روز ایسے تنازعات جنم لے رہے ہیں، جہاں فیصلے فون کالز پر ہو رہے ہیں اور تحریری قواعد ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ صورتحال صوبائی حکومت، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی کی اعلیٰ قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ آیا اعلیٰ تعلیمی ادارے واقعی قانون کے تحت چل رہے ہیں یا پھر سب کچھ “سب ڈیلیگیشن ہو جاتی ہے” جیسے غیر سنجیدہ جملوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں