صادق یونیورسٹی: رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم عارضی چارج، سپریم کورٹ کی حکم عدولی

ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج و یمن یونیورسٹی بہاولپور میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ہدایات کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر تعینات رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم گزشتہ 30 ماہ سے تاحال اپنے عہدے پر براجمان ہیں حالانکہ سپریم کورٹ اضافی چارج اور عارضی تعیناتیوں سے متعلق واضح حد بندی کر چکی ہے۔ یاد رہے کہ 20 ستمبر 2024 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں آل پاکستان یونیورسٹیز بی پی ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن بنام وفاقی وزارت تعلیم وغیرہ کیس کی سماعت کے دوران سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے واضح طور پر ریمارکس دیے تھے کہ کسی بھی انتظامی عہدے پر ایڈیشنل یا عارضی چارج زیادہ سے زیادہ چھ ماہ سے زائد نہیں دیا جا سکتا۔ بعد ازاں اس زبانی فیصلے کا تحریری حکم نامہ 24 اکتوبر 2024 کو جاری کیا گیا۔ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں رجسٹرار کے اہم عہدے پر مستقل تقرری کے لیے اشتہار تو دیا گیا مگر ڈاکٹر صائمہ انجم کو مختلف قانونی سقم اور اعتراضات کے باوجود مسلسل عہدے پر برقرار رکھا گیا، جو سپریم کورٹ کے احکامات کی روح کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ یونیورسٹی میں سینیارٹی اور قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے انتظامی فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم ہیں جنہوں نے رجسٹرار کی حیثیت اپنی پروفیسر شپ کے لیے از خود درخواست اپنے آپ کو ہی جمع کروائی اور گزشتہ سینڈیکیٹ سے اپنی مقابلے کی 3 خواتین امیدواران کا حق مارنے کے لیے اور ناک آوٹ کرنے کے لیے اپنی مرضی کی ایکسپرٹس لسٹ اور ڈوذئیر ایویلیوٹرز منظور کروائے تاکہ وہ اپنے لیے سیٹ حاصل کرنے کی گراؤنڈ تیار کر سکیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر صائمہ انجم اتنی منصوبہ ساز رجسٹرار ہیں کہ انہوں نے اپنے کماؤ پوت اسسٹنٹ خزانچی منصور احمد خان کی پرسنل فائل اچھی طرح دھو کر صاف کی کہ اس میں موجود ڈاکومینٹس کا آج تک کوئی اتا پتا نہیں جبکہ ان ڈاکومینٹس کی متعدد سافٹ کاپیاں پوری یونیورسٹی کے ملازمین ماسوائے وائس چانسلر کے پاس موجود ہیں اور وائس چانسلر منصور احمد خان کی پرسنل فائل کے ڈاکومینٹس سے علم میں ہونے کے باوجود اظہار لاتعلقی کر رہی ہیں۔ اس معاملے پر موقف کے لیے یونیورسٹی پی آر او سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے، جس کی تردید کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ سرکاری جامعات میں انتظامی امور کے تسلسل کے لیے اضافی یا عبوری ذمہ داریاں دینا ایک معمول اور قانونی انتظامی عمل ہے، جو پنجاب بھر کی جامعات میں رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صائمہ انجم کو رجسٹرار کی ذمہ داریاں مجاز اتھارٹیز کی منظوری اور قواعد و ضوابط کے مطابق سونپی گئی ہیں۔ خبر میں لگائے گئے ذاتی الزامات اور دیگر دعوے بے بنیاد ہیں۔ پی آر او کا کہنا تھا کہ کیا صادق ویمن یونیورسٹی پنجاب کی واحد یونیورسٹی ہے جہاں رجسٹرار طویل عرصہ عارضی تعینات ہیں۔ باقی اداروں میں بھی رجسٹرار کافی عرصے سے عارضی طور پر تعینات ہیں لہذا اس میں کوئی غیر قانونی اور قابل اعتراض بات نہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں