ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب کی سرکاری جامعات میں قانون شکنی اور ریاستی کنٹرول میکانزم کو روندنے کا جو کھیل جاری ہے، اس کی ایک نمایاں اور تشویشناک مثال گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں دیکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس جامعہ میں وائس چانسلر اور رجسٹرار کی سرپرستی میں یونیورسٹی ایکٹ، سنڈیکیٹ قوانین اور اسٹیچوٹس کو کھلم کھلا پامال کرتے ہوئے “پری سنڈیکیٹ” کے نام پر غیر قانونی اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل سنڈیکیٹ اجلاس سے قبل جان بوجھ کر ایک خفیہ، غیر رسمی اور غیر قانونی پری سنڈیکیٹ منعقد کی جاتی ہے، جس کا نہ تو یونیورسٹی ایکٹ میں کوئی ذکر ہے، نہ اسٹیچوٹس میں اور نہ ہی رولز میں اس کی کوئی گنجائش موجود ہے۔ اس غیر قانونی فورم کے ذریعے فیصلے پہلے سے طے کر لیے جاتے ہیں جبکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور لا ڈیپارٹمنٹ کو دانستہ طور پر اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔ انتہائی حیران کن اور تشویشناک انکشاف ہوا ہے کہ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں بعض پری سنڈیکیٹ اجلاس فزیکل کے ساتھ ساتھ آن لائن بھی منعقد کروائے جا رہے ہیں، حالانکہ قانون میں نہ سنڈیکیٹ اور نہ ہی اس سے متعلق کسی ذیلی فورم کی آن لائن میٹنگ کی کوئی اجازت موجود ہے نہ ہی “پری سنڈیکیٹ” نام کی کسی شے کا قانونی وجود ہے۔ اس کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ بلا خوف و خطر قانون کو روندتے ہوئے من پسند فیصلوں کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ ان غیر قانونی اجلاسوں میں وہی ممبران شامل کیے جاتے ہیں جن سے پہلے ہی مطلوبہ فیصلوں پر “ہاں” کروا لی جاتی ہے۔ مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان اجلاسوں میں ایسے ممبران بھی وائس چانسلر اور رجسٹرار کا بھرپور ساتھ دیتے نظر آتے ہیں جنہیں نہ سنڈیکیٹ کے اختیارات کا علم ہے، نہ ووٹنگ کے اصولوں کا اور نہ ہی یونیورسٹی کے انتظامی و قانونی ڈھانچے کی بنیادی سمجھ۔ یہی لاعلم یا سہولت کار ممبران غیر قانونی فیصلوں کے لیے سب سے مضبوط ڈھال بن چکے ہیں۔ ان پری سنڈیکیٹ اجلاسوں میں اساتذہ یا افسران کے خلاف کارروائی، من پسند افراد کی تعیناتی، غیر قانونی ترقیوں اور مخصوص شخصیات کو نوازنے جیسے فیصلے پہلے ہی “مینج” کر لیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں اصل سنڈیکیٹ اجلاس محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے، جہاں اختلاف رائے، ووٹنگ اور قانونی تقاضے عملاً دفن ہو چکے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق کسی بھی اختلاف کی صورت میں باقاعدہ ووٹنگ لازم ہے، جس میں ہائر ایجوکیشن، فنانس اور لا ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ مگر ذرائع کے مطابق گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں انہی اداروں کو غیر مؤثر بنانے کے لیے اصل اجلاس سے پہلے ہی پری سنڈیکیٹ منعقد کر لی جاتی ہے تاکہ عددی برتری پہلے سے یقینی بنائی جا سکے۔ ان غیر قانونی اجلاسوں میں شریک ممبران کو سیمینار، کانفرنس یا خصوصی اجلاس کے نام پر خطیر ٹی اے/ڈی اے ادا کیا جاتا ہے۔ یوں قومی خزانے کا پیسہ مبینہ طور پر غیر قانونی فیصلوں کو تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور لا ڈیپارٹمنٹ کو ان سرگرمیوں کی بروقت خبر تک نہیں ہو پاتی، جو کہ ادارہ جاتی کمزوری کا ثبوت ہے۔ روزنامہ قوم کے توسط سے اس یونیورسٹی سٹاف کا موقف ہے کہ اگر اس طرزِ عمل کو قانون کے بجائے شخصیات کی ناپسند پر رکھا گیا تو گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں ہونے والے تمام فیصلے کالعدم قرادئیے جائیں اور چانسلر، ممبران کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ قانون کی بالادستی اور اداروں کا وقار بحال ہو سکے۔ اس بارے میں خبر کی اشاعت تک گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور کی رجسٹرار ڈاکٹر صائمہ انجم کی جانب سے 2 روز گزرنے کے باوجود کوئی جواب موصول نہ ہوا۔







