ملتان (سٹاف رپورٹر)ملک کی دیگر سرکاری جامعات کی طرح گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں بھی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر تقرریوں کا سلسلہ جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تازہ معاملہ اسسٹنٹ ٹریژرر (BS-17) کے عہدے پر منصور احمد خان کی کنٹریکٹ بنیاد پر کی گئی غیر قانونی اور غیر آئینی تعیناتی کا ہے، جس پر تعلیمی و انتظامی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے جاری اشتہار کے تحت اسسٹنٹ ٹریژرر کے عہدے کے لیے کسی تسلیم شدہ یونیورسٹی یا کسی قومی یا بین الاقوامی ادارے میں کم از کم تین سالہ انتظامی تجربہ لازمی شرط قرار دیا گیا تھا تاہم منصور احمد خان کی جانب سے پیش کردہ تجربہ نہ صرف غیر متعلقہ بلکہ اشتہار میں دی گئی شرائط سے واضح طور پر متصادم ہے۔دستاویزات کے مطابق منصور احمد خان نے سب سے پہلے فنانس منیجر، شجاع آباد ویونگ مل کے طور پر 2009 سے 2013 تک تقریباً پانچ سالہ تجربہ ظاہر کیا، حالانکہ ویونگ مل نہ تو کوئی یونیورسٹی ہے اور نہ ہی اسے کسی قومی یا بین الاقوامی ادارے کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے، اس لیے یہ تجربہ اشتہاری شرائط کے مطابق سرے سے قابل قبول ہی نہیں۔اسی طرح دوسرا تجربہ ایڈمن آفیسر، ایم این ایس یو اے یونیورسٹی کا بتایا گیا ہے، جو 16 دسمبر 2013 سے 24 فروری 2015 (تقریباً ایک سال تین ماہ) پر محیط ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ملازمت روزانہ اجرت (Daily Wages) کی بنیاد پر تھی، جس میں مختلف وقفے بھی موجود رہے، جبکہ یہ مدت بھی اشتہار میں درکار کم از کم تین سالہ انتظامی تجربے سے کہیں کم ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ ریکارڈ کی نقل بطور ضمیمہ-بی بھی دستیاب ہے۔تیسرا تجربہ فنانس منیجر، گوٹھ سینگار فاؤنڈیشن کا ظاہر کیا گیا ہے، جو ایک این جی او ہے اور اس کا دعویٰ کردہ تجربہ بھی آٹھ ماہ سے زیادہ نہیں بنتا۔ واضح رہے کہ این جی او کو یونیورسٹی یا قومی/بین الاقوامی ادارے کے مساوی قرار نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا یہ تجربہ بھی اشتہار کی شرائط پوری نہیں کرتا۔اہم بات یہ ہے کہ اس تمام غیر متعلقہ اور ناکافی تجربے کے باوجود منصور احمد خان کی تقرری سلیکشن بورڈ کے ذریعے منظور کی گئی ماہرین تعلیم اور یونیورسٹی ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ تقرری شفافیت، میرٹ اور قانونی تقاضوں کی صریح خلاف ورزی ہے، جو نہ صرف اہل امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ادارے کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔تعلیمی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر قانونی تقرری کی فوری تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور میرٹ کی پامالی کے ذریعے حاصل کی گئی تعیناتی کو کالعدم قرار دیا جائے، تاکہ سرکاری جامعات میں قانون کی بالادستی اور شفاف نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔







